سپریم کورٹ: لاپتہ افراد، اعلی حکام کی طلبی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپریم کورٹ نے صوبائی حکومت کی کارکردگی کو ناقص قرار دیا۔

سپریم کورٹ نے بلوچستان میں لاپتہ افراد سے متعلق کیس میں وفاقی سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع کو منگل کے روز عدالت میں طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے لاپتہ افراد کیس میں پیش رفت نہ ہونے پر صوبائی حکومت پر بھی برہمی کا اظہار کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ، جسٹس خلجی عارف اور جسٹس جواد پرمشتمل بینچ نے پیر کوئٹہ میں بلوچستان میں امن وامان سے متعلق کیس کی سماعت دوبارہ شروع کی۔ عدالت میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی ایک بڑی تعداد پیش ہوئی۔

عدالت نے لاپتہ افراد کیس میں پیش رفت نہ کرنے پر وفاقی سیکرٹری داخلہ، وفاقی سیکرٹری دفاع، وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے علاوہ گورنر بلوچستان کے پرنسپل سیکرٹری کو کل عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیاہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ گزشتہ دوماہ میں عدالت کے حکم پر پچیس کے قریب لاپتہ افراد بازیاب ہوچکے ہیں تاہم یہ تعداد بہت کم ہے۔ عدالت نے صوبائی حکومت کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا۔

اس موقع پر ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان امان اللہ کنرانی نے عدالت کو بتایا کہ سولہ لاپتہ افراد کے کیسز کا تعلق وفاقی اداروں سے ہے۔

کیس کی سماعت شروع ہونے سے قبل مختلف محکموں اور اداروں کی جانب سے بند کمرے میں اعلی عدلیہ کے ججوں کو بریفنگ دی گئی۔ کیس کی سماعت تاحال جاری ہے۔

اسی بارے میں