’مستحکم جمہوریت ہی ایک مؤثر ہتھیار ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردوگان دنیا کی واحد شخصیت ہیں جنہیں پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے دوسری بار خطاب کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے

ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردوگان نے پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ عالمی طور پر اپنی بات منوانے کے لیے مستحکم جمہوریت ہی ایک مؤثر ہتھیار ہے۔

پیر کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترکی کے وزیراعظم نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی جمہوری عمل کے تسلسل میں ہے اور جمہوریت میں اپوزیشن کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔

ان کے بقول جمہوریت میں اپوزیشن کا کام صرف تنقید کرنا یا حکومت کو ہٹانا نہیں بلکہ عوامی مفادات کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔

انہوں نے پاکستان میں جمہوریت کو مستحکم کرنے پر صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور اپوزیشن کے کردار کو سراہا۔

اتوار کی رات کو ترکی کے وزیراعظم ایک بڑے وفد کے ہمراہ تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچے ہیں۔

ترکی کے وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان تنہا نہیں ہے، ترکی ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ ہے اور رہے گا۔

انہوں نے دونوں ممالک کے درمیاں تجارتی، عوامی، سیاسی اور سفارتی تعلقات مزید مستحکم کرنے پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان اور ترکی کو ایک دوسرے کے وسائل سے استفادہ کرنا چاہیے۔

ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردوگان دنیا کی واحد شخصیت ہیں جنہیں پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے دوسری بار خطاب کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے پہلی بار چھبیس اکتوبر سنہ دو ہزار دس کو پارلیمان سے خطاب کیا تھا۔

ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردوگان ایسے وقت میں پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جب ایک طرف پاکستان کو نیٹو سپلائی کی بحالی کے حوالے سے عالمی طور پر سخت دباؤ کا سامنا تو دوسری جانب وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کیس میں ملنے والی سزا کے بعد ان کے خلاف حزب مخالف کی مسلم لیگ نون سراپا احتجاج ہے۔

ترکی کے وزیراعظم کا دورہ پاکستان اندرونی سیاسی اعتبار سے حکومت اور باالخصوص وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا ہے کیونکہ ان کی ایوان میں موجودگی اور تقریر کے دوران مسلم لیگ نون نے کوئی احتجاج نہیں کیا۔

اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے شکریہ ادا کرتے ہوئے وضاحت کی کہ انہوں نے ترکی کے وزیراعظم کے احترام میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں کوئی احتجاج نہیں کیا اور اندرونی اختلافات ختم کر دیے ہیں۔

انہوں نے ترکی اور ترکی کے وزیراعظم کی پاکستان کے لیے خدمات اور دوستی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا میں ترکی واحد ملک ہے جہاں پاکستان اور پاکستانیوں کو عزت ملتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ترکی کے وزیراعظم کا دورہ پاکستان اندرونی سیاسی اعتبار سے حکومت اور باالخصوص وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا ہے

قبل ازیں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے زلزلے اور سیلاب کے دوران ترکی کی جانب سے پاکستان کے لیے فوری امداد کا ذکر کیا اور کہا یہ اس بات کی عکاس ہے کہ دونوں ممالک اور عوام میں بہت گہرا تعلق ہے اور وہ ایک دوسرے سے دکھ سکھ میں ساتھ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترکی کی ایک نو سالہ بچی کی جانب سے اپنا جیب خرچ اور وزیراعظم رجب طیب اردوگان کی بیگم ایمان اردوگان کی جانب سے اپنی شادی کے قیمتی زیورات امداد کے طور پر دینے کے واقعات کو بھلا نہیں سکتے۔

ترکی کے وزیراعظم نے اپنی مادری زبان اور اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے فی البدی انگریزی میں تقریر کی جبکہ وزیراعظم اور سپیکر نے لکھی ہوئی انگریزی میں تقریریں پڑھیں۔

ان کے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کےدوران تمام اراکین نے کھڑے ہوکر بھرپور انداز میں خیرمقدم کیا۔ اجلاس کی کارروائی مقررہ وقت سے نصف گھنٹے سے بھی زیادہ تاخیر سے شروع ہوئی۔ مسلم لیگ قاف کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اجلاس میں نظر نہیں آئے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں انیس سو تہتر کا متفقہ طور پر منظور کردہ آئین کے بعد سے اب تک انتالیس برسوں میں چھ بار غیر ملکی شخصیات نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا ہے۔ جبکہ اب ساتویں بار خطاب کا اعزاز ترکی کے وزیراعظـم کو حاصل ہوا ہے۔

ترتیبوار پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے والی غیر ملکی شخصیات میں سری لنکا کی وزیراعظم مسز بندرا نائیکےانیس سو چھہتر، ترکی کے صدر کینان ایورن انیس سو پچاسی، ایران کے صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی انیس سو بانوے، برطانیہ کی ملکہ ایلزبتھ دوئم انیس سو ستانوے، ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان دو ہزار نو اور چین کے وزیراعظم وین جیا باؤ دو ہزار دس، شامل ہیں۔

چار غیر ملکی شخصیات ایسی بھی ہیں جنہیں پاکستان کی قومی اسمبلی سے خطاب کا اعزاز حاصل رہا ہے۔ جس میں فلسطین کے صدر یاسر عرفات انیس سو نواسی، فرانس کے صدر فرینکس متراں انیس سو نوے، ایران کی مجلس شوریٰ اسلامی کے سپیکرحُجت الاسلام مہدی قروبی انیس سو اکانوے اور ایران کی مجلس شوریٰ کے سپیکر علی اکبر نوری شامل ہیں۔

اسی بارے میں