کراچی: امن کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے شہر کراچی میں گزشتہ روز پرتشدد واقعات کے تناظر میں ملک میں موجود سول سوسائٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ کراچی کو اسلحہ سے پاک کیے بغیر پائیدار امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔

دوسری جانب میڈیا کے اراکین کا کہنا ہے کہ ایسے پرتشدد واقعات کی رپورٹنگ میں توازن قائم رکھنا انتہائی مشکل امر ہے۔

کراچی سے نامہ نگار ارمان صابر کے مطابق پاکستان میں حقوقِ انسانی کے کارکن سید اقبال حیدر کا کہنا ہے کہ وہ عدم تشدد پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی عرصۂ دراز سے عدم تشدد کے لیے کوشاں ہے اور اس کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

سید اقبال حیدر نے کہا کہ سول سوسائٹی نے دہشت گردی اور دہشت گردوں کے نام لے کر نشاندہی کی ہے۔ان کے بقول لسانیت اور فرقہ واریت میں جو بھی لوگوں کو اکسائے گا وہ کراچی ، عوام اور ملک کا دشمن ہے۔

وومن ایکشن فورم کی سربراہ انیس ہارون کہتی ہیں کہ تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے سے اسلحہ کا خاتمہ کیا جائے۔ ان کے بقول حکومت کا کام ہے کہ وہ اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کرے اور مختلف گروپس اور سیاسی جماعتوں کو بلاتفریق اسلحہ سے پاک کیا جائے۔

صحافی محسن سعید بھی معاشرے کو اسلحہ سے پاک کرنے کے حامی ہیں تاہم وہ کہتے ہیں کہ سول سوسائٹی معاشرے میں عدم تشدد کے لیے وہ کردار ادا نہیں کر رہی جو اسے کرنا چاہیے۔

’مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سول سوسائٹی پاکستان میں کافی کمزور ہے۔ لوگ بہت زیادہ کوششیں کررہے ہیں مگر اس طرح سے منظم نہیں کیونکہ سول سوسائٹی کوئی پارٹی نہیں ہے باقی فورسز پارٹی کی صورت میں متحد ہیں۔‘

پر تشدد واقعات کو عوام تک پہنچانے کے بارے میں میڈیا کے کردار پر بات کرتے ہوئے سینیئر صحافی مظہر عباس نے کہا کہ ایسے واقعات کو کور کرنا میڈیا کے لیے انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں جو میڈیا کے لیے انتہائی حساس ہوتے ہیں اور ان کو بہت ہی احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

’ہمارا میڈیا اس طرح سے تربیت یافتہ نہیں ہے کہ معاملات کی نزاکت کو اس کے پس منظر میں سمجھ سکے۔ الیکٹرانک میڈیا میں فوٹیج ہوتی ہے اور پرتشدد واقعات میں جب فوٹیج بھی چلتی ہے تو اس طرح معاملہ کو دبایا نہیں جا سکتا بلکہ آگ لگنے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔‘

مظہر عباس نے کہا کہ میڈیا کا بنیادی کردار حقائق کو صحیح انداز میں پیش کرنا ہوتا ہے اور اگر احتیاط کے ساتھ حقائق کو دکھایا جائے تو یہ طریقہ خود ہی پرامن حل کی جانب لے جائے گا۔

اسی بارے میں