’ایمرجنسی سمیت تمام آپشنز موجود ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption بلوچستان بدامنی اور لاپتہ افراد کیس کی سماعت یکم جون تک ملتو ی کر دی گئی

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ اگر وزیرِاعظم پاکستان نے بلوچستان کے حالات کی بہتری کے لیے اقدامات نہیں کیے تو آئین خود اپنا راستہ بنائےگا جس میں ایمرجنسی سمیت تمام آپشنز موجود ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس خلجی عارف حسین اور جسٹس جواد ایس خواجہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے بدھ کو کوئٹہ رجسٹری میں بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کی۔

عدالت میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری خوشنود لاشاری اور سیکرٹری دفاع نرگس سیٹھی کے علاوہ دیگر حکام بھی موجود تھے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ حکومت آئین کے آرٹیکل ایک سو اڑتالیس پر عمل نہیں کر رہی ہے، حکومتیں آتی جاتی ہیں تاہم ہمیں ملک کو بچانا ہے اور اگر یہ وقت ہاتھ سے نکل گیا توملک سنگین صورتِ حال سے دو چار ہوسکتا ہے۔

چیف جسٹس کے بقول وزیرِاعظم کو اپنے منصب کے مطابق توقعات پر پورا اترنا چاہیے اور اگر وزیرِاعظم نے اپنا کام نہ کیا تو آئین اپنا کام خود کرے گا، جس پر ایمرجنسی بھی لگ سکتی ہے یا کچھ اور بھی ہوسکتا ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق سماعت کے دوران چیف جسٹس نے خوشنود لاشاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ماضی کی نسبت آج صورتِ حال ابتر ہوچکی ہے اور یہاں آئین کے مطابق کوئی کام نہیں ہو رہا۔

انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں آئی ایس آئی، ایم آئی اور ایف سی پر لوگوں کو لاپتہ کرنے اور لاشیں پھینکنے کا الزام ہے جبکہ صوبے میں مذہبی ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ علماء کو مارا جا رہا ہے اور پولیس بے بس ہے بلوچستان کی صورت حال پر نوٹس کے باوجود کوئی جواب نہیں دے رہا۔

اس پر وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے جواب دیا کہ حکومت نے آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکج شروع کیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ صوبے میں کہیں بھی چلے جائیں وہاں دیکھیں کہ ترقی کی کیا صورت حال ہے جس گھر میں آگ لگی ہوئی ہے وہاں پہلے آگ بجھاتے ہیں پھر مرمت ہوتی ہے مگر حکومتی رویہ یہ ہے کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل استعفیٰ دے دیتے ہیں‘۔

ان کے بقول دوسری جانب صورت حال یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں پاکستان کا پرچم لہرایا جاتا ہے نہ ہی قومی ترانہ پڑھا جا رہا ہے، سکول اور یونیورسٹیاں بند ہیں لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں، بلوچستان میں سیاسی حکومت ہے اسے بلوچستان کے حالات بہتر بنانے کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے مطابق ہمیں بلوچستان میں سب کچھ بے معنی محسوس ہو رہا ہے، وزیر خود کہتے ہیں کہ وزراء جرائم میں ملوث ہیں جبکہ اغواءہونے والے دو ججز اور وکلا ایک وزیر کے بھائی کی نجی جیل سے بازیاب ہوئےتھے۔

چیف جسٹس کے بقول بلوچستان کے کئی علاقے نوگو ایریاز بن چکے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ جیسے حکومت کو بلوچستان سے کوئی دلچسپی نہیں، وزراء پر لوگوں کو اغواء کرنے اور ایف سی پر مسخ شدہ لاشیں پھنکنے کا الزامات ہیں۔

ایک موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے پر اگر وزیر اعظم سے براہ راست بات کرنی پڑی تو گریز نہیں کریں گے یہ ہمارے لیےانا کا مسئلہ نہیں لیکن چونکہ وزیر اعظم پر کیس ہے اس لیے براہ راست رابطہ نہیں کر سکتے۔

خوشنود لاشاری نے کہا کہ وزیرِاعظم کو صورت حال سے آگاہ کریں گے بلوچستان میں انتظامی صورت حال کمزور ہے اس لیے بابر فتح محمد یقوب کو چیف سیکرٹری تعینات کیاگیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کی صوبے میں عدم موجودگی کے حوالے سے چیف جسٹس افتخار نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے وزیر اعلیٰ صرف سات دن صوبے میں آئے۔

سیکرٹری دفاع نرگس سیٹھی نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے لاپتہ افراد کے کیس میں ڈی جی آئی ایس آئی سے بات کی ہے وہ سپریم کورٹ کوبریفنگ دینے کے لیے تیار ہیں۔

چیف جسٹس نے اس موقع پر وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری خوشنود لاشاری کو مخاطب کرکے کہا کہ وہ سرکاری خرچ پر لاپتہ افراد کے لواحقین کی وزیراعظم سے ملاقات کرائیں اور ان کے نوٹس میں لائیں کہ یہاں آئین کا بریک ڈاون ہو رہا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان بدامنی اور لاپتہ افراد کیس کی سماعت یکم جون تک ملتو ی کر دی گئی، کیس کی آئندہ سماعت اسلام آباد میں ہو گی۔

اسی بارے میں