’پاکستان کیلیے امریکی امداد میں 58 فیصد کمی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس بل کے تحت پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر مخصص کیے گئے ہیں جن میں اسی کروڑ ڈالر غیر ملکی امداد کے طور پر شامل کیے جائیں گے۔

امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی نے سنہ دو ہزار تیرہ میں پاکستان کو دی جانے والی امداد میں اٹھاون فیصد کمی کرنے کے حق میں ووٹ دے دیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے غیرملکی امداد نے امداد میں کمی کے ساتھ ساتھ یہ اعلانیہ بھی جاری کیا ہے کہ اگر پاکستان نےنیٹو سپلائی لائن بحال نہ کی تو مالی امداد میں مزید کمی کی جا سکتی ہے۔

سینیٹ کی اپراپریئیشن کمیٹی اس بل کی حتمی منظوری جمعرات کو دے گی۔

واضح رہے کہ امریکی سینیٹ کا یہ فیصلہ شکاگو میں منعقدہ نیٹو کانفرنس کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔ کانفرنس میں امریکہ پرامید تھا کہ پاکستان اور امریکہ کا نیٹو سپلائی لائن کی بحالی کے متعلق معاہدہ طے پا جائے گا لیکن سپلائی لائن ابھی بھی بند ہے۔

غیر ملکی امداد کے بل کے تحت مالی سال دو ہزار تیرہ میں امریکہ نے پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر مختص کیے ہیں جن میں اسی کروڑ ڈالر بطور غیر ملکی امداد دیے جائیں گے۔

کمیٹی میں ریپبلیکن پارٹی کے سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا ’ہم ایک ایسے ساتھی ملک کو پیسے نہیں دے سکتے جو ساتھی نہیں بنے گا‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگر نیٹو کی رسد بحال نہیں ہوتی تو ہم پائپ لائن میں مزید رقم شامل کرنے کی بجائے اس سے تمام رقم نکال لیں گے۔ اس لیے کہ ہم ایسے ملک پر رقم نہیں لگانا چاہتے جو افغانستان میں ہماری افواج کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے مناسب انداز میں ہماری مدد نہیں کرتا‘۔

پاکستان نے نیٹو کی رسد کا زمینی راستہ چھبیس نومبر کو امریکی فوج کی جانب سے سرحد پار حملے کے ردعمل میں بند کیا تھا جس میں چوبیس پاکستانی فوجی مارے گئے تھے۔

سینیٹ کی اس کمیٹی نے عراق، مصر اور افغانستان کو دی جانے والی امداد میں بھی کمی کرنے کا بل منظور کیا ہے۔ اس بل کے تحت عراق کو دی جانے والی امریکی امداد میں ستتر فیصد کمی کی جائے گی۔

غیر ملکی آپریشنز کے لیے امریکی سینیٹ کی اپراپریئیشن سب کمیٹی نے باون اعشاریہ ایک ارب ڈالر کے اخراجات کی منظوری دی جو کہ دو ہزار تیرہ کے مالی سال کے لیے صدر اوباما کی درخواست کردہ رقم سے دو ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کم ہیں۔

اسی بارے میں