’گمشدہ‘ ریاست کا شاہی مہمان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نور محل اپنے اندر ایک الگ کہانی سموئے ہوئے ہے

میں ایک گمشدہ ریاست کا شاہی مہمان بننے کی خواہش لیے سابق ریاست حال ضلع بہاولپور پہنچ گیا ہوں۔

فی الحال ایک ایسےگیسٹ ہاؤس میں قیام پذیر ہوں جسے کے عین سامنے وہ نور محل ہے جس کا انتظام اب پاکستان فوج سنبھال چکی ہے۔

ظاہرہے کہ نور محل نہ اب کوئی قیام گاہ ہے اور نہ ہی میرا فوج کا مہمان بننے کا ارادہ یا خواہش ہے۔

میں تو بہاولپور کے آخری نواب صادق کے پوتے نواب صلاح الدین عباسی کا مہمان بننا چاہتا ہوں کیونکہ صادق گڑھ پیلس نامی محل انہی کے پاس ہے اور سنا ہے کہ نوابی شان سمیت وہ اب اسی محل میں رہتے ہیں۔

میں نے کبھی کوئی زندہ سلامت بادشاہ دیکھا نہ ہی کسی ملکہ کو کورنش بجا لانے کا شرف حاصل ہوا۔

حالانکہ بادشاہوں اور ان کی ملکاؤں کے قصے کہانیاں بچپن سے سنتے چلے آئے ہیں۔

اب جبکہ ایسے واضح سیاسی اشارے ملنے شروع ہوئے ہیں کہ اسلام آباد اور لاہور پنجاب کی تقسیم پر رضامند ہو چکے ہیں اور پنجاب اسمبلی نے ایسی قراردادیں منظور کرائی ہیں جن میں جنوبی پنجاب کے صوبے کے ساتھ ساتھ بہاولپور صوبہ کی بحالی کا بھی ذکر کیا گیا تو میں نے سوچا کہ یہی وقت ہے کہ اس سابق ریاست کا دورہ کر لیا جائے۔

بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی قراداد کامطلب ریاست بہاولپور کی صوبے کی شکل میں بحالی ہے اور یہ مطالبہ قرارداد کی شکل میں سامنے آنے سے بظاہر پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت کچھ بدمزہ ہوئی ہے۔

سرائیکستان صوبے کے حامی بہاولپور صوبے کے سخت مخالف ہیں اور انہی علاقوں میں ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو نئے صوبوں کے قیام کے ہی خلاف ہیں۔

جنوبی پنجاب یا سرائیکستان صوبے کا دارالحکومت کس شہرکو بنانا ہے اس پر بھی بحث چل رہی ہے۔

آہستہ آہستہ سب لوگوں سے ملاقات کی کوشش تو ہوگی ہی لیکن سب سے بڑی خواہش تو مجھے نوابوں سے ملاقات کی ہے۔

سنا ہے ان کا شاہی قبرستان بھی ہے اور پاکستان کا سب سے پہلا بجلی گھر بھی ہے۔

نور محل اپنے اندر ایک الگ کہانی سموئے ہوئے ہے بظاہر ایک سویا ہوا محل،لیکن فی الحال ایک عجائب گھر سے زیادہ حیثیت نہیں رہ گئی۔

سوسال پرانی گاڑیاں اب نواب صاحب کے استعمال ہیں یا کھٹارا بن گئی ہیں۔نواب خاندان سونے چاندی کے برتنوں میں اب بھی کھانا کھاتے ہیں یا یہ ٹاٹھ باٹھ اب قصہ پارینہ بن چکے؟پرانے زمانے کے شاہی زیورات کیسے ہوتے ہیں؟

ابھی تو یہ بھی علم نہیں کہ شاہی مہمان بنا بھی جاسکتا ہے یا نہیں یا پھر میری حثیت عام سوالی کی سی ہی رہ جائے گی؟البتہ جو بھی ہوگا وہ انہی صفحات پر پیش کردیا جائے گا۔

دیکھتے رہیے ملتے ہیں ایک بریک کے بعد۔

اسی بارے میں