مخدوم امین فہیم کے خلاف کارروائی کا حکم

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 24 مئ 2012 ,‭ 09:11 GMT 14:11 PST

’امین فہیم سے چار کروڑ روپے کی رقم کی ریکوری باقی ہے‘

سپریم کورٹ نے نیشنل انشورنس کمپنی لمٹیڈ میں زمین کی خریداری کے مقدمے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کو وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم کے خلاف مناسب کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعرات کو این آئی سی ایل میں زمین کی خریداری کے سکینڈل کی سماعت کی۔

این آئی سی ایل میں ہونے والی اربوں روپے کی مبینہ بدعنوانی کے مقدمے کی تحقیقات کرنے والے تفتیشی افسر نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اب تک اس مقدمے میں دو ارب بیس کرور روپے سے زائد کی رقم موصول ہوچکی ہے جبکہ ابھی اس مقدمے میں موجودہ وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم سے چار کروڑ روپے کی رقم کی ریکوری باقی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت کا کہنا تھا کہ کسی وزیر نے غلط کام کیا ہو تو اُس کے خلاف بھی ضرور کارروائی ہونی چاہیے۔ عدالت نے سیکرٹری تجارت سے استفسار کیا کہ ابھی تک مخدوم امین فہیم کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی جس کا وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔

عدالت نے کارروائی نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وزیر اعظم کے خلاف عدالتی احکامات نہ ماننے پر کارروائی ہوسکتی ہے تو وفاقی وزیر کے خلاف بھی ہوسکتی ہے۔

چیف جسٹس نے سیکرٹری تجارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرکے لوگوں کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اگر مذکورہ وفاقی وزیر رقم واپس کر بھی دیں تو پھر بھی اُن کے خلاف فوجداری دفعات کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر مخدوم امین فہیم نے این آئی سی ایل کے چیئرمین کے عہدے پر ایک ایسے شخص کو تعینات کیا جو کہ نااہل تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ چوروں اچکوں کو اس لیے بڑے بڑے عہدوں پر فائز کیاجاتا ہے کیونکہ یہ حکومت کا استحقاق ہے۔

"ملک میں بادشاہت رائج نہیں ہے کہ بادشاہ سلامت کوئی حکم دیں تو اُس پر فوری عمل درآمد ہو۔ یہ ادارہ عوام کی ملکیت ہے اور غلط کام کرنے والوں کو حساب دینا ہوگا۔"

جسٹس خلجی عارف

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سابق چیئرمین آین آئی سی ایک ایاز خان نیازی کی تعیناتی کی سمری کی منظور مخدوم امین فہیم نے دی۔

سیکرٹری تجارت ظفر محمود نے عدالت کو بتایا کہ اس ادارے میں سب سے زیادہ حصص حکومت کے پاس ہیں اور یہ حکومت کا استحقاق ہے کہ وہ کسی کو بھی اس ادارے کا سربراہ مقرر کرسکتی ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ ملک میں بادشاہت رائج نہیں ہے کہ بادشاہ سلامت کوئی حکم دیں تو اُس پر فوری عمل درآمد ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ ادارہ عوام کی ملکیت ہے اور غلط کام کرنے والوں کو حساب دینا ہوگا۔

سیکرٹری تجارت نے عدالت کو بتایا کہ فارنزک آڈٹ رپورٹ میں اس ادارے میں مزید بدعنوانی کے بارے میں نہیں بتایا گیا ۔

اُنہوں نے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کی ٹیم کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم اس ضمن میں تفتیشی ٹیم کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ظفر محمود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بھولے نہ بنیں اُنہوں بھی معلوم ہے کہ تفتیشی افسران کی بھی مجبوریاں ہوتی ہیں۔

"چوروں اچکوں کو اس لیے بڑے بڑے عہدوں پر فائز کیاجاتا ہے کیونکہ یہ حکومت کا استحقاق ہے۔"

جسٹس افتخار چوہدری

اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر معظم جاہ نے عدالت کو بتایا کہ متعقلہ وفاقی وزیر نے سول عدالت میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے جس کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں نو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اُنہوں نے کہا کہ سپیشل جج کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس مقدمے کی کارروائی میں پیش رفت نہیں ہو رہی۔

یاد رہے کہ حکمراں اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ قاف کے رہنما اور سنئیر وفاقی وزیر پرویز الہی کے بیٹے مونس الہی کو بھی اس مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم اُنہیں اس مقدمے میں سے رہا کردیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔