دوہری شہریت: فرح اصفہانی کی رکنیت معطل

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عدالت نے درخواست پر کارروائی تیس مئی تک ملتوی کر دی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی رکنِ قومی اسمبلی فرح ناز اصفہانی کی رکنیت معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے یہ حکم جمعہ کو ارکانِ پارلیمنٹ کی دوہری شہریت سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران دیا۔

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی اہلیہ فرح ناز اصفہانی پاکستان کے علاوہ امریکہ کی شہریت بھی رکھتی ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت کے دوران فرح ناز نے اپنے وکیل وسیم سجاد کے ذریعے جمع کروائے جانے والے بیان میں تسلیم کیا تھا کہ ان کے پاس دوہری شہریت ہے جس پر عدالت نے ان کی رکنیت معطل کرنے کا حکم دیا۔

اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالت سے استدعا کی کہ فیصلے سے قبل ججوں کا ذہن بنا لینا منصفانہ سماعت کے خلاف ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی مجبوری میں امریکی شہریت کا حلف اٹھاتے ہیں۔ عدالت میں فرح ناز اصفہانی کی جانب سے تحریری بیان میں رکھا گیا جس میں ان کا موقف تھا کہ دوہری شہریت کی اجازت آئین میں موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رکن بتنے وقت انہوں نے پاکستان کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھایا تھا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہی اراکین اسمبلی بعد میں وزیر یا وزیر اعظم بھی بن سکتے ہیں لہذا وہ اس مقدمے میں سمجھوتہ نہیں کرسکتے ہیں۔

اس معاملے میں جمعہ کو وزیرِ داخلہ رحمان ملک کے وکیل نے ان کی برطانوی شہریت کی منسوخی کے دستاویزی ثبوت پیش کرنے کے لیے مزید مہلت مانگی جس پر عدالت نے درخوست پر کارروائی تیس مئی تک ملتوی کر دی۔

گزشتہ سماعت پر رحمان ملک کی جانب سے ایک بیانِ حلفی جمع کروایا گیا تھا جس میں انہوں نے اپنی برطانوی شہریت واپس کرنے کے بارے میں مطلع کیا تھا۔ اس پر عدالت نے اس کے دستاویزی ثبوت طلب کیے تھے جو ابھی تک عدالت میں پیش نہیں کیے جا سکے۔

ارکانِ پارلیمان کی دوہری شہریت کے بارے میں یہ درخواست اختر حسین نقوی ایڈوکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل تریسٹھ کے تحت ان اراکین اسمبلی کی رکنیت منسوخ کی جائے جو دوہری شہریت رکھتے ہیں۔

اس درخواست پر سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو ان ارکانِ اسمبلی کی فہرست پیش کرنے کا حکم بھی دیا تھا جو دوہری شہریت رکھتے ہیں تاہم تاحال عدالت میں یہ فہرست پیش نہیں کی گئی ہے۔

اسی بارے میں