کراچی ریلی میں ہلاک ہونے والی غزالہ بتول کون تھیں؟

gazala batool تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

’اگر سندھ کی وحدت پر وار کیا گیا تو سب سے پہلے اس دھرتی کی بیٹیاں میدان میں اتریں گی۔‘ یہ غزالہ بتول کے آخری الفاظ تھے جو انہوں نے بائیس مئی کو محبت سندھ نامی ریلی کے موقعے پر سندھی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہے۔

عوامی تحریک اور کالعدم پیپلز امن کمیٹی نے مہاجر صوبہ تحریک کے خلاف لیاری سے پریس کلب تک ریلی نکالی تھی، جس پر راستے میں فائرنگ کی گئی اورغزالہ صدیقی سمیت گیارہ افراد ہلاک ہوگئے۔

بعض نیوز چینل کے معروف اینکرز نے بائیس مئی کو یہ دعویٰ کیا تھاکہ فائرنگ میں ریلی کے شرکاء ہلاک نہیں ہوئے بلکہ پی آئی اے کی افسر غزالہ وہاں سے گذر رہی تھیں کہ گولی کا نشانہ بن گئیں، بعد میں حقیقت اس کے برعکس سامنے آئی تھی۔

چار بچوں کی ماں غزالہ پاکستان قومی ایئر لائین میں سینیئر افسر ایڈورٹائزمنٹ کے عہدے پر فائز تھیں، ان کے شوہر اٹلی کے شہر میلان میں پی آئی اے کے منیجر ہیں۔

غزالہ کی پیدائش دادو کے شہر پاٹ شریف میں ہوئی۔ بعد میں انہوں نے حیدرآباد سے گریجویشن کی، اس کے ساتھ وہ ڈی ایم ایچ ایس کرکے ہیومیوپیتھک ڈاکٹر بن گئیں مگر پریکٹس نہیں کی۔

غزالہ بتول کا تعلق سندھ کے ایسے خاندان سے ہے جو علمی، ادبی اور تجارت کے حوالے سے معروف ہے۔ ان کے والد قطب الدین صدیقی سندھ کے گورنر ایوب کھوڑو کے پرائیوٹ سیکریٹری تھے۔

کراچی میں غزالہ کے ننھیال رہتے ہیں۔ ان کی والدہ لیاری کی بلوچ ہیں، ماموں عثمان بلوچ نامور مزدور رہنما ہیں، غزالہ کے بھائی شہاب الدین صدیقی سوئی سدرن گیس کمپنی کی مزدور یونین کےصدر ہیں۔ ان کے چچا جسٹس عبدالوحید صدیقی فیڈرل شریعت کورٹ کے جج تھے۔

صحافی دودو چانڈیو نے اپنے ایک کالم میں غزالہ بتول کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کا تعلق جس طبقے سے تھا اس کے لوگ عملی سیاست سے دور رہتے ہیں مگر غزالہ ان چند لوگوں میں سے تھی جو سندھ کے مظلوم لوگوں کا ساتھ دینے کے لیے متحرک رہتی تھیں۔

غزالہ بتول کے کزن قاضی قدیر ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ غزالہ کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی بلواسطہ تعلق نہیں تھا مگر وہ سندھیانی تحریک کے قریب رہی تھیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ سندھ اور اس کے لوگوں کے حوالے سے جب کوئی مسئلہ سامنے آتا تو وہ اٹھ کھڑی ہوتیں۔ نوے کی دہائی میں حیدرآباد میں لسانی فسادات کے بعد جو لوگ بے گھر ہوئے ان کی بحالی کے لیے وہ سرگرم رہیں، اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے طلائی زیورات تک بیچ دیئے تھے۔

سندھ میں دو ہزار دس کے سیلاب کے بعد متاثرین کی ایک بڑی تعدا کراچی آئی غزالہ ان لوگوں کی مدد کے لیے پہنچ گئیں، ان کے کزن قاضی قدیر کے مطابق متاثرین کی مدد کے لیے انہوں نے اپنی جمع پونجی اور زیورات سب کچھ داؤ پر لگا دیا۔

غزالہ عرف بی بی اپنے خاندان میں نڈر لڑکی کے طور پر پہچانی جاتی تھیں۔ قاضی قدیر بتاتے ہیں کہ گزشتہ انتخابات میں سٹیل ٹاؤن کے پولنگ سٹیشن پر دھاندلی کی اطلاع پر وہ وہاں پہنچ گئیں اور ایک سیاسی جماعت کے ایجنٹ کو تھپڑ رسید کردیا بعد میں رینجرز اہلکاروں نے جب کوئی کارروائی نہیں کی تو انہوں نے چوڑیاں پھینک کر انہیں بے بسی کا احساس دلایا تھا۔

اسی بارے میں