’مہاجر ہلاک‘،خبر کہاں سےآئی

ٹوِٹر پر بحث کا عکس تصویر کے کاپی رائٹ Other

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر نوابشاہ میں جمعہ کی صبح ایک بس پر فائرنگ کے نتیجے میں آٹھ افراد کی ہلاکت کی خبر منظر عام پر آتے ہی یہ پاکستان میں ٹوِٹر پر اہم موضوع بن گیا اور کچھ ہی دیر میں نوابشاہ کا شمار سب سے زیادہ ذکر کی جانے والی دو تین خبروں میں تھا۔

ٹوٹر پر شروع ہونے والی اس بحث کی خاص بات بڑی تعداد میں لوگوں کے پیغامات میں یہ رجحان تھا کہ قتل کیے جانے والے ’مہاجر‘ یا ’اردو بولنے والے‘ تھے۔ یہ اس وقت کہا جا رہا تھا جب یا تو ہلاک ہونے والوں کی شناخت ابھی واضح نہیں تھی یا ان کا تعلق صوبہ خیبرپختونخواہ اور پنجاب کے شہروں سے بتایا جا رہا تھا۔

واقعے کے بعد پولیس نے بتایا تھا کہ سات لاشیں ہسپتال پہنچائی گئی ہیں جن میں میانوالی، اٹک اور صوابی کے دو دو افراد شامل ہیں جبکہ ٹیکسلا سے تعلق رکھنے والا ایک شخص شامل ہے۔

ٹوِٹر پر #نوابشاہ کے بارے میں پہلی خبر پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق تقریباً دن کے سوا بارہ بجے آئی جس میں صرف اتنا بتایا گیا کہ ’قاضی احمد پر بس پر فائرنگ، سات افراد جاں بحق‘۔

اس کے کچھ ہی دیر کے بعد سیدہ صنوبر کے اکاؤنٹ سے ٹویٹ کیا گیا کہ ’قاضی احمد، سات اردو بولنے والے قتل کر دیے گئے، کراچی سے سفر کر رہے تھے، مہاجروں کے قتل عام کا سلسلہ شروع ہو گیا!‘ انہوں نے ایک اور ٹویٹ کیا کہ ’علیحدگی پسند سندھو دیش کے نعرے لگا رہے تھے اور مہاجروں کو گالیاں دے رہے تھے۔ سندھ میں اردو بولنے والوں کے لیے کوئی پولیس نہیں کوئی تحفظ نہیں۔‘

اسی دوران مختلف اور لوگوں کے اکاؤنٹ سے بھی ٹویٹ کیا گیا جس میں صرف ہلاکتوں کی تعداد بتائی گئی اور واقعے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ ایک قابل ذکر ٹویٹ فیصل سبزواری نامی اکاؤنٹ سے ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ ’نوابشاہ، ابتدائی رپورٹ سے اشارہ ملتا ہے کہ دہشت گردوں نے(جنہیں ہم جانتے ہیں) لوگوں کی نسلی شناخت معلوم کی اور فائرنگ کر دی۔‘

دو مختلف اکاؤنٹ سے ہوبہو ایک جیسا پیغام نشر ہوا جس میں کہا گیا کہ فائرنگ پلیجو گروپ کی جانب سے ہوئی ہے۔ انہی میں سے ایک حماد صدیقی نے کچھ دیر بعد ٹویٹ کیا کہ حملہ آوروں نے ’لوگوں کی نسلی شناخت معلوم کی اور مار دیا، اردو بولنے والے لوگ۔‘ یہی بات بعد میں مختلف لوگوں نے بھی دہرائی۔ ان پیغامات میں کسی خبر یا کسی اور ذریعے کا حوالہ نہیں دیا گیا۔

کاشف نظام نے ٹویٹ کیا کہ ’نوابشاہ میں بس پر فائرنگ، صرف اردو بولنے والوں کو قتل کیا گیا، پلیجو گروپ کے مجرموں نے کی۔‘ اس کے بعد ’فینسی اے فلٹر‘ نامی اکاؤنٹ سے ٹویٹ ہوا کہ ’پھر مہاجر خون بہہ رہا ہے۔‘ یہ پیغام اِسی اکاؤنٹ سے کئی بار نشر ہوا۔سید امین الدین کے اکاؤنٹ سے ٹویٹ ہوا کہ ’مہاجروں کا قتلِ عام بند کرو۔‘

یہ تو تھے پہلے گھنٹے میں نشر ہونے والی کچھ پیغامات۔ ’اردو بولنے والوں کی ہلاکتوں اور قتل عام‘ کے الزامات لگانے والے اس طرح کے پیغامات کا سلسلہ کسی حد تک اس کے چھ گھنٹے کے بعد بھی جاری رہا، حالانکہ اس دوران یہ بھی ٹویٹ ہو چکا تھا کہ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق خیبرپختونخواہ اور پنجاب سے ہے۔

ایسے کچھ پیغامات میں جن میں کہا گیا تھا کہ ’ ہلاک ہونے والے مہاجر ہیں‘ ایاز پلیجو کا نام بار بار لیا جاتا رہا۔ ایسے پیغامات میں کہا جا رہا تھا کہ ایاز پلیجو نے چند روز قبل کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں کا بدلہ لینے کی بات کی ہے۔ ان پیغامات میں اخبار فرنٹیر پوسٹ کی ایاز پلیجو کے بیان پر مبنی اس خبر کا لنک بھی دیا گیا تھا۔ اس خبر کی تفصیل پڑھیں تو اس میں ایاز پلیجو نے بدلہ لینے کے ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ وہ بدلہ دہشتگردوں سے لیں گے نہ کہ اردو بولنے والوں سے۔

نوابشاہ کے واقعے کے بعد نشر ہونے والے پیغامات میں ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کا وہ پیغام بھی کئی بار دہرایا گیا جس میں اس نے کہا کہ یہ واقعہ فساد پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

بس پر فائرنگ کے واقعے کے بارے میں پہلے ٹویٹ کے تقریباً چھ گھنٹے کے بعد رانیا کشمیری کے اکاؤنٹ سے تبصرہ کیا گیا کہ ’دہشت گردوں کے بس پر حملے میں پنجابی اور پٹھان ہلاک ہوئے لیکن ایم کیو ایم پراپوگینڈا کر رہی ہے کہ ہلاک ہونے والے مہاجر تھے۔‘

پاکستان کے وقت کے مطابق تقریباً سوات سات بجے طلعت خان نے ٹویٹ میں بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں گلاب خان(صوابی)، عبدالمجید اور ارسلان مجید(ٹیکسلا)، شہزاد حسن اور محمد مرکب(اٹک)، سمیح اللہ (میانوالی) اور حاجی عبدالغفار شامل ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان میں سے مہاجر کون ہے؟

اس کے بعد کچھ لوگوں نے ٹیوٹ کر کے ان پیغامات پر تنقید کی جن میں کہا گیا تھا کہ نوابشاہ یا بینظیر آباد میں مہاجروں یا اردو بولنے والوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ایک تازہ ترین ٹویٹ میں جو ’مہاجر پراونس موو‘ نامی اکاؤنٹ سے نشر ہوئی تھی کہا گیا ہے کہ ’مہاجر قوم زندہ ہے، مہاجر صوبہ موومنٹ کی تحریک کو خون کے دریاؤں یا نوابشاہ جیسی۔۔۔ کارروائیوں سے دبایا نہیں جا سکتا۔‘ پھر یہی پیغام ہوبہو ’مہاجر تحریک‘ اور ’مہاجرپراونس‘ نامی اکاؤنٹ سے بھی جاری ہوا۔

تازہ ترین ٹویٹ ابن خواجہ کا تھا جس میں کہا گیا کہ ’ہر جماعت اپنی سیاست نوابشاہ کے ہلاکشدگان کی لاشوں پر چمکائے گی، ہمارے جذبات سے کھیلے گی، جاگو، ہوش کرو۔‘

اسی بارے میں