’کشمیریوں کو سرحد عبور کرنے سے روک دیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جن بارہ کشمیروں کو بھارت جانے سے روکا گیا ان میں تین خواتین بھی شامل تھیں

ثفافتی تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت جانے والے پاکستانی وفد میں شامل کشمیریوں کو الگ کر کے انہیں سرحد عبور کرنے سے روک دیاگیا۔

وفد نے لاہور کے نزدیک پاک بھارت سرحد واہگہ کے راستے بھارت روانہ ہونا تھا تاہم پینتیس رکنی وفد میں شامل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے بارہ ارکان کو اجازت نہیں ملی۔

وفد میں شامل ایک کشمیری فاروق ناز نے بی بی سی کو بتایا کہ بھارتی تنظیم کی دعوت پر وہ بھارت جا رہے تھے تاہم انہیں عین اس وقت روکا گیا جب وہ وفد کے دیگر ارکان کے ساتھ سرحد عبور کرنے والے تھے۔

ان کے بقول پاک بھارت واہگہ سرحد پر پاکستانی حکام نے انہیں اس لیے بھارت جانے سے روکا کیونکہ وفد میں شامل کشمیریوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق فاروق ناز نے بتایا کہ وفد میں طلبہ کے علاوہ ڈاکٹر اور وکلا بھی شامل تھے جو دس روز دورہ ثفافتی دورے پر بھارت جا رہے تھے اور ان کے پاس بھارت جانے کی باقاعدہ اجازت نامہ تھا۔

جن بارہ کشمیروں کو بھارت جانے سے روکا گیا ان میں تین خواتین بھی شامل تھیں۔

فاروق ناز نے بتایا کہ ان کے ساتھ کشمیری ہونے کے وجہ سے امتیازی سلوک کیا گیا ہے جبکہ وفد میں شامل لاہور اور کراچی سے تعلق رکھنے والے ارکان کو بھارت جانے کی اجازت دے دی گئی۔

فاروق ناز نے کہا کہ ایک طرف تو پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے میں مصروف ہیں لیکن کشمیریوں کو ایک دوسرے کے ملک میں جانے سے روکا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ’پاکستان اور بھارت اپنے اپنے زیر انتظام کشمیر کو اپنی کالونی تصور کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستانیوں کے مقابلے میں انہیں بھارت جانے کے لیے ویزے بھی ایک دن تاخیر سے ملے۔‘

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ وفد میں شامل کشمیریوں کو روکا گیا جبکہ دیگر ارکان کو بھارت جانے کی اجازت مل گئی جو امتیازی سلوک کی ایک واضح مثال ہے۔

ان کے بقول پاکستانی حکام نے ان کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا اس سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے کشمیری کوئی اچھوت ہوں۔

فاروق ناز نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ وفد میں ایک کشمیری لڑکی نے بھارت جانا تھا لیکن وہ اپنی پڑھائی کی وجہ سے نہیں جا سکیں لیکن ان کا نام بھی اس فہرست میں شامل تھا جن کو بھارت جانے کی اجازت نہیں تھی۔

فاروق ناز کے مطابق وفد میں شامل کشمیروں نے بھارت جانے کی اجازت نہ ملنے پر اپنا احتجاج متعلقہ حکام تک پہنچایا ہے۔

اسی بارے میں