کوئٹہ:ریمورٹ کنٹرول بم دھماکہ، تین افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں ریمورٹ کنٹرول بم دھماکے میں تین افراد ہلاک اور ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق اتوار کی شام کو کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پرایری گیشن کالونی کے قریب ایک زور دار بم دھماکہ اس وقت ہوا جب پولیس کی وین وہاں سے گذرہی تھی۔

دھماکے میں تین افراد ہلاک اور ایک پولیس اہلکارسمیت پانچ افراد زخمی ہوئےہیں جنہیں فوری طور پر سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کردیاگیا۔

دھماکے سے پولیس وین کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ قریبی دکانوں اور عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

پولیس کے مطابق دھماکہ نامعلوم افراد کی جانب سے سڑک کے کنارے کھڑی گدھاگاڑی میں نصب ریمورٹ کنٹرول بم سے ہواہے۔ جس میں دس سے پندرہ کلو تک بارود استعمال کیاگیا ہے۔ دھماکے سے دو رکشے بھی تباہ ہوئے جبکہ ایک گدھا ہلاک ہوگیا۔

دھماکے کے بعد سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) کوئٹہ کیپٹن میر زبیر موقع پرپہنچ گئے۔ انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’نامعلوم تخریب کاروں نے پولیس وین کو ٹارگٹ کیا تھا تاہم اس میں ایک رکشہ ڈرائیور سمیت اور دوگدھا گاڑی مالکان ہلاک ہوئے ہیں۔‘

واقعے کے بعد پولیس اور فرنٹیئر کور نے چند گھنٹوں کے لیے سریاب روڈ کو عام ٹریفک کے لیے بند کردیا تاہم دھماکے کی جگہ سے ملبہ ہٹانے کے بعد سریاب روڈ کو ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا۔

سریاب پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان کی تلاش شروع کردی ہے لیکن آخری اطلاع تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی اور نہ کسی نے اس دھماکے کی تاحال ذمہ داری قبول کی ہے۔

دوسری جانب یونائٹڈ بلوچ آرمی کے ترجمان مرید بلوچ نے کل رات کوئٹہ شہر پرفائرہونے والے دو راکٹوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جس میں تین افراد ہلاک اور تیرہ زخمی ہوئے تھے۔ ترجمان کے مطابق ان کاہدف فوجی چھاونی تھی۔ انہوں نے عام لوگوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں