شدت پسند تنظیمیں اور کراچی کی ڈکیتیاں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں ایک اعلٰی پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ تجارتی شہر کراچی میں زیادہ تر ڈکیتیاں شدت پسند تنظیمیں اپنے لیے فنڈز حاصل کرنے کے لیے کرتی ہیں۔

اہلکار کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار نو سے تین برس کے دوران بینک ڈکیتیوں کے ذریعے لوٹی گئی ڈھائی ارب روپے سے زیادہ کی رقم کا بیشتر حصہ شدت پسندوں تنظیموں کے لیے حاصل کیا گیا۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق پاکستان کے جنوبی ساحلی شہر کراچی کے مختلف علاقوں میں واقع بینک ڈکیتیوں میں ملوث عناصر کو تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق ان تین زمروں میں ایک زمرہ وہ ہے جن میں صرف وہ افراد ہیں جو عادی ڈاکو ہیں اور ڈکیتی ان کا پیشہ ہے، دوسرے زمرے میں وہ لوگ ہیں جو عادی ڈاکو نہیں ہیں لیکن پیسہ حاصل کرنے کے لیے ڈکیتی ڈالتے ہیں جبکہ تیسرا زمرہ ان افراد کا ہے جو ڈاکو ہی نہیں ہیں لیکن وہ ایک خاص مقصد کے تحت ڈکیتی کررہے ہیں اور ان کا مقصد اپنے گروپ کے لیے فنڈ حاصل کرنا ہے۔

صوبۂ سندھ کی وزارتِ داخلہ کے مشیر برائے پالیسی سازی اور تعلقاتِ عامہ شرف الدین میمن نے کہا ہے کہ شدت پسندوں کے گروہوں کے ملوث ہونے کے شواہد صرف بینک ڈکیتیوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اغواء برائے تاوان کی بھی چند وارداتوں میں ملے ہیں۔

شرف الدین میمن نے کہا کہ ان وارداتوں پر قابو پانے کے لیے ہم نے ہیومن انٹیلی جنس کو مستحکم کیا ہے جبکہ تحقیقات میں جدید ٹکنالوجی کا استعمال متعارف کرایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے افراد سب سے پہلے کرائے کا مکان حاصل کرتے ہیں اور اب ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے تمام سٹیٹ ایجنٹس کو مطلع کردیا گیا ہے کہ کرائے کا مکان لینے سے پہلے متعلقہ مالکِ مکان پولیس کو اطلاع دے گا۔

انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے علاوہ بینک ڈکیتیوں پر قابو پانے کے لیے بینکوں کی سکیورٹی کو مزید بہتر اور مؤثر بنانے کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

تقریباً پونے دو کروڑ آبادی والے تجارتی شہر میں ڈکیتیاں اور لوٹ مار کی وارداتیں روز مرہ کا معمول ہیں تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ بینک ڈکیتیوں سے ہونے والی لوٹ مار کو شدت پسند تنظیموں نے اپنی آمدنی کا ذریعہ بنالیا ہے جو پولیس کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

کراچی پولیس کے سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے سربراہ ایس ایس پی خرم وارث نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ دس سال کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو پہلے اس میں اندرونِ سندھ کے بدنامِ زمانہ ڈاکوؤں کے گروہ ملوث ہوتے تھے اور بینک ڈکیتی کو ایک انتہائی مشکل جرم تصور کیا جاتا تھا۔

ان کے بقول ’اس کے بعد اچانک اس رجحان میں تبدیلی محسوس کی گئی اور دیکھنے میں یہ آیا کہ کچھ اور عناصر اس میں ملوث ہوگئے جن میں شدت پسند عناصر بھی تھے، اور نظر یہ آیا کہ انہوں نے فنڈز حاصل کرنے کے لیے بینک ڈکیتی کی وارداتیں کرنی شروع کی ہیں۔‘

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ پہلی بار پولیس کو اس وقت شبہ ہوا جب سولہ افراد پر مشتمل ایک گروہ نے بینک کو لوٹا۔

خرم وارث نے کہا ’ہمارے لیے حیران کن بات یہ تھی کہ ڈکیتی میں سولہ افراد کیا کر رہے ہیں۔ اس کے بعد چند مشتبہ افراد گرفتار ہوئے جن کی نشاندہی پر مزید ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے دورانِ تفتیش بتایا کہ ان کا تعلق شدت پسند تنظیموں سے ہے اور وہ بینک ڈکیتیوں سے لوٹی رقم اپنے گروپ کو بھیجتے ہیں۔‘

ایس ایس پی نے بتایا کہ تفتیش کے دوران گرفتار کیے گئے ملزمان کا تعلق مختلف گروپوں سے ثابت ہوا۔ ان کے بقول ان گروپوں میں بیت اللہ محسود، جنداللہ اور الیاس کاشمیری گروپ شامل ہیں جن کے لیے بینک ڈکیتیوں کے ذریعے فنڈ جمع کیا جاتا ہے۔

آج کل کس قسم کی ڈکیتیاں زیادہ ہو رہی ہیں اس سوال کے جواب میں پولیس افسر خرم وارث نے کہا ’دیکھیں آج کل تو میں کہوں گا فنڈ ریزنگ والی ڈکیتیاں زیادہ ہورہی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ڈاکوؤں کا عام گروہ جو بینک ڈکیتی کرتا ہے وہ کوئی چھ، آٹھ یا دس افراد پر مشتمل ہوتا ہے اور اگر پولیس ان میں سے دو یا تین یا چار کو گرفتار کرلے تو پھر اُس گروہ کی کمر ٹوٹ جاتی ہے اور اپنے آپ کو عام طور پر بہت جلد دوبارہ منظم نہیں کر پاتا۔

ان کے بقول دوسری جانب شدت پسند گروہوں کے پاس افراد کی کمی نہیں ہوتی، اِن میں سے اگر دس پکڑے بھی جاتے ہیں تو یہ ہی کام کرنے کے لیے دس دوسرے تیار ہوتے ہیں۔

پولیس افسر خرم وارث نے کہا کہ پولیس مرکزی بینک کے ساتھ مل کر بینکوں میں سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر اور مؤثر بنانے کی کوشش کررہی ہے تاکہ بینک ڈکیتیوں پر قابو پایا جاسکے۔