’حقوق انسانی کی خلاف وزریوں پر شدید تشویش‘

آخری وقت اشاعت:  پير 28 مئ 2012 ,‭ 04:35 GMT 09:35 PST

امریکی وزرات خارجہ نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں اس نے پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی رپورٹ میں پاکستان میں سکیورٹی اداروں اور عسکریت پسندوں کے ہاتھوں عام شہریوں کا اغوا، گمشدگیاں اور قتل کو انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیاں قرار دیا ہے۔

اس کے علاوہ رپورٹ میں حقوق انسانی کی جن خلاف ورزیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے ان میں خواتین پر گھریلو تشدد، جنسی زیادتی اور ‏غیرت کے نام پر قتل کے واقعات ہیں۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی جانب سے اختتام ہفتہ پر جاری ہونے والی رپورٹ میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں گزشتہ سال دو ہزار گیارہ میں حقوق انسانی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔

رپورٹ میں پاکستان میں انسانی حقوق جن خلاف ورزیوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں شہریوں کے حقوق اور آزادی، سیاسی مخالفین کی گمشدگیاں، غیر قانونی نظربندیاں، تشدد اور دیگر غیر انسانی سلوک، مقدمہ چلانے کے طریقۂ کار، سیاسی نظر بندیاں، اندرونی عدم تحفظ کے مسئلے کو طاقت سے حل کرنے، انتہاپسندی اور دہشت گردی، جیلوں اور قید خانوں کی حالت زار، قتل، اغوا، بچوں کی مسلح گروہوں میں بھرتی ،خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔

امریکی وزرات خارجہ کی سلانہ رپورٹ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں صوبہ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں شہریوں کے قتل کے واقعات کا تفصلی ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں سندھی قوم پرست تنظیم جيئے سندہ قومی محاذ یا جسقم کے رہمناؤں کے دعویٰ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ’ان رہنماؤں کے مطابق سال دو ہزار گیارہ کے آخر تک ان کے تیس سے چالیس کارکن ریاستی اداروں کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد لاپتہ رہے۔‘

رپورٹ میں بلوچستان میں لاپتہ افراد کے لیے کام کرنے والے تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جون دو ہزار دس سے لیکر دسمبر دو ہزار گیارہ تک بلوچستان سے تین سو پچپن گمشدہ افراد کی تشدد شدہ لاشیں ملیں اور اب تک سات سو پچپن افراد گرفتار کیے جانے بعد سے لاپتہ ہیں جن میں سے پینتیس کی مسخ شدہ لاشین ملی ہیں۔

امریکی محمکمہ خارجہ کی پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے متعلق اسی رپورٹ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دو ہزار ایک سے اب تک چودہ ہزار افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں میں کوئٹہ شہر کے قریب خروٹ آباد میں سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں چیچن شہریوں کے قتل، مبینہ طور فرنٹیئر کور کے ہاتھوں بی این پی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گمشدگیاں اور پھر قتل، انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ہاتھوں آکاش ملاح سمیت سندھی قوم پرستوں کی گمشدگیوں کا ذکر تفصیل سے کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں لاپتہ افراد کے بارے میں تفصیلی ذکر ہے

رپورٹ میں کراچی کے بینظیر پارک میں رینجرز کے ہاتھوں سرعام نوجوان سرفراز شاہ کے قتل کا ذکر بھی کیا گيا جس کے لیے کہا گيا ہے کہ اس بہمیانہ قتل کی فوٹیج انٹرنیٹ کی ویب سائٹ یوٹیوب پر بھی دستیاب ہے۔

غیر سرکاری تنظیموں کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ توہین رسالت کے کیسوں میں نامزد مبینہ ملزمان کو ضمانت دینے سے انکار کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اور وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے قتل اور عیسائی خاتون آسیہ بی بی کی سزا کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں صوبہ پختونخواہ کی جیلوں میں گنجائش سے کئي گنا زیادہ قیدیوں کی تعداد کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی رپورٹ میں صوبہ خیبر پختونخوا میں نقل مکانی کرنے والے افراد کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس کے علاوہ کراچی میں پرتشدد واقعات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سال دو ہزار گیارہ میں پرتشدد واقعات میں گیارہ سو اڑتیس افراد ہلاک ہوئے اور ان میں سے چار سو نوے کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔