کوئٹہ:اساتذہ کی حمایت میں شٹرڈاؤن ہڑتال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کوئٹہ میں حکومت نے سیکورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے تھے۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں مختلف سیاسی جماعتوں کی اپیل پر منگل کو مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔

ہڑتال ان اساتذہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کی گئی جو گزشتہ بیس دنوں سے اپنے مطالبات کے حق میں تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق منگل کے روز کوئٹہ شہر میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال رہی اور تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے۔

اس کے علاوہ تمام سرکاری سکول بھی بند تھے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک قدرے کم ہے ۔ حکومت نے سیکورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے تھے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

یہ ہڑتال پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علماء اسلام (نظریاتی) گروپ، مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی کی درخواست پر کی گئی۔

ہڑتال کا مقصد بلوچستان آل ٹیچرز ایسوسی ایشن کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا تھا جن کے ایک سو چالیس اساتذہ گزشتہ بیس دنوں سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

اس ہڑتال میں اساتذہ کا مطالبہ ہے کہ گزشتہ سال بجٹ میں سکولوں کی مرمت کے لیے رکھے گئے ایک ارب روپے کے استعمال میں بدعنوانی کی تحقیات کرائی جائیں۔

ہڑتال پر بیٹھے اساتذہ کا ایک اور مطالبہ ہے کہ گریڈ بیس اور انیس کے عہدوں پر گریڈ سولہ اور پندرہ کے افراد کی تعیناتیوں کے احکامات کو منسوخ کیا جائے اور اساتذہ کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔

خیال رہے کہ بھوک ہڑتال میں بیٹھے مرد اساتذہ کی حمایت میں گزشتہ روز خواتین اساتذہ ، طلبہ و طالبات نے بھی کوئٹہ میں ایک احتجاجی ریلی نکالی اور گورنر ہاوس کے سامنے دھرنا دینے کی کوشش کی تاہم پولیس نے انہیں گورنر ہاوس جانے سے روک دیا۔

دوسری جانب حکومت کا موقف ہے کہ ہڑتال کرنے والے اساتذہ کے مطالبات غیر قانونی ہیں اور وہ انتظامی عہدوں پر من پسند افراد کو لانے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں، جس سے طلبہ و طالبات کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔

ادھر ہڑتال میں بیٹھے اساتذہ کا موقف ہے کہ ان کی تادم مرگ بھوک ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔

اسی بارے میں