کیا سلیم شہزاد قتل کو بھلا دیا گیا ہے؟

سلیم شہزاد تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سلیم شہزاد کے قتل کے بعد بھی کئی پاکستانی صحافیوں کو ہلاک کیا گیا ہے

29 مئی پھر لوٹ آیا ہے، یہ احساس دلاتا ہے کہ صحافی سلیم شہزاد کے قاتل آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں اور جب چاہیں کسی اور صحافی کی گردن بھی دبوچ سکتے ہیں۔

اسی دن اسلام آباد کے پولیس کے کڑے پہرے والی شاہراہ مرگلہ سے مسٹر شہزاد کو دن دہاڑے اغواء کیا گیا تھا اور پھر ان کی تشدد زدہ لاش پنجاب سے ملی تھی۔

اگرچہ سلیم شہزاد کے قتل کے بعد بھی پاکستان میں صحافیوں کو ہدف بناکر قتل کرنے کے واقعات رکے نہیں ہیں اور خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں کئی صحافیوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔

لیکن سلیم شہزاد وہ واحد صحافی تھے جن کی تحقیقات کے لیے حکومت نے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا اور وہ کمیشن بھی قاتل کو بے نقاب نہیں کرسکا۔

ان کے اغوا کو ایک برس پورا ہونے پر ان کے ورثاء کو بھی شاید صبر آگیا ہے اور وہ یہ جان گئے ہیں کہ قاتل کو گرفت میں لینا کسی کے بس میں نہیں۔

سلیم شہزاد کے برادر نسبتی حمزہ امیر کہتے ہیں: ’بہت مشکل سال تھا یہ ہمارے لیے کیونکہ بہت کچھ ہوتا رہا اور ہم بہت کچھ دیکھتے رہے۔ بہت ڈرامے بھی دیکھے بہت جھوٹ بھی دیکھا لیکن آج بھی یہ ایک حقیقیت ہے کہ میرے بہنوئی کو جس نے بھی قتل کیا وہ آج بھی کھلا گھوم رہا ہے اور بہت بڑا خطرہ ہے، شاید میرے لیے بھی اور دوسرے لوگوں کے لیے بھی۔‘

وقت بے حس ہوتا ہے اور حالات سے بے پرواہ ہوکر اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ اسکی یہی ادا انسانی زندگی کی تلخیوں کے لیے مرہم کا کام بھی کرتی ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ مقتول شہزاد کے ورثاء نے بھی وقت کے ساتھ ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔

حمزہ امیر نے بتایا کہ سلیم شہزاد کی بیوہ اور تین بچوں کی کفالت اور تعلیم و صحت کی ذمہ داری ننھیال نے اٹھالی ہے اور کچھ دوست اور خیر خواہ بھی مدد کر رہے ہیں۔ اسکے علاوہ ان کے بقول حکومت پاکستان نے بطور معاوضہ جو تیس لاکھ روپے دیے تھے، ان پر بینک سے حاصل ہونے والا منافع سے بھی گزر بسر میں مدد مل رہی ہے۔

حمزہ امیر کو پاکستانی میڈیا سے بھی شکوہ ہے کہ اس نے شہزاد کو بھلا دیا۔

’قتل کے فوری بعد ہمارے لیے یہ بہت بڑا دلاسہ تھا اور ہمت والی بات تھی کہ ہمارے پیچھے پاکستانی میڈیا کھڑا ہوا ہے لیکن چھ آٹھ مہینوں کے بعد جب تحقیقات کی رپورٹ سامنے آتی ہے جس میں کچھ بھی نہیں ہے، تو یہ میڈیا چپ رہا اور اتنا چپ رہا کہ کسی نے اس معاملے کو شاید دو منٹ کا وقت دینے کی بھی توفیق نہیں کی۔‘

صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز سانس فرنٹیئرز (سرحد بناء صحافی) کے پاکستان میں نمائندے اقبال خٹک بھی حمزہ امیر کی بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مسٹر شہزاد کے قتل کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے کمیشن سے جو امیدیں وابستہ تھیں وہ پوری نہیں ہوسکیں۔

’سلیم شہزاد کے قتل کی تحقیقات کرنے والی کمیشن کو ناکامی تو یقیناً ہوئی ہے۔ لیکن یہ صرف کمیشن کی ناکامی نہیں ہے بلکہ ساری صحافتی برادری کی ناکامی ہے کیونکہ کمیشن کو تو ثبوت کی ضرورت تھی اور وہ ثبوت ہم مہیا نہیں کر سکے۔‘

مسٹر خٹک کہتے ہیں کہ پاکستان کی صحافتی برادری کو یا صحافیوں کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کی یہ کمزوری یا کوتاہی ضرور ہے کہ اسے تحقیقاتی کمیشن کی سفارشات پر حکومت کے ذریعے عملدرآمد کرانے کی کوشش ضرور کرنا چاہیے تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح قاتلوں کے بے نقاب نہ ہونے پر مسٹر شہزاد کے ورثاء کو مایوسی ہوئی ہے، یہی احساسات پاکستان کے ان تمام صحافیوں کے بھی ہیں جو شہزاد سمیت پاکستان کے دوسرے صحافیوں کے قتل کے واقعات پر تشویش میں مبتلا ہیں۔

پی ایف یو جے کے احتجاج پر ہی سلیم شہزاد کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا تھا، لیکن اسکے بعد کی صورتحال پر وہ بھی کھل کر اپنی بے بسی کا اظہار کرتی نظر آتی ہے۔

پی ایف یو جے کے سیکریٹری جنرل امین یوسف کہتے ہیں کہ ’صحافیوں کا قتل عام تو یہاں جاری ہے، 2012 کے اندر ہمارے چار ساتھی ہم سے جدا کردیے گئے۔‘

کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد ہم نے بارہا حکومت سے یہ کہا ہے کہ اس رپورٹ کی روشنی میں اس واقعے کی باضابطہ تحقیقات ہونی چاہیے۔۔۔۔۔ ہماری کئی بار میٹنگز ہوئی ہیں اعلی سطح کے حکام سے، مستقل ہم اپیلیں کر رہے ہیں لیکن حکومت کی بے حسی ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔‘

پاکستان حالیہ برسوں میں صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ملک کے طور پر ابھرا ہے اور شاید اس سال بھی اپنی یہ پوزیشن برقرار رہے، ملک کے مختلف حصوں میں شدت پسندی اور شورش میں اضافے اور اسکے جواب میں سیکیورٹی فورسز کی کھلی یا ڈھکی چھپی کارروائیوں نے اس کے لیے فضا مزید ہموار کی ہے۔

ایسے میں سلیم شہزاد سمیت پرتشدد واقعات میں مارے جانے والے صحافیوں کے ورثاء کو کب انصاف ملے گا، ملے گا بھی یا نہیں، پاکستانی صحافت، منتخب حکومت اور آزاد عدلیہ کے لیے یہ آج بھی بہت اہم سوال ہے؟ جس سے جتنا صرف نظر کیا جائے گا اتنا ہی یہ سوال بار بار گھوم کر سامنے آتا رہے گا۔

اسی بارے میں