بھوجا ائیر لائن کے آپریشن معطل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کی نجی فضائی کمپنی بھوجا ائیر کا کہنا ہے کہ وہ سول ایوی ایشن کی جانب سے عائد کی گئی عارضی پابندی کو ختم کرانے کے لیے اگلے ماہ شرائط مکمل کر لے گی جس کے بعد اس کا فلائٹ آپریشن بھی شروع کردیا جائے گا۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے گزشتہ روز بھوجا ائیر کے فلائٹ آپریشن پر عارضی پابندی عائد کی تھی۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان پرویز جارج کا کہنا تھا کہ بھوجا ائیر کے پاس صرف ایک طیارہ قابلِ استعمال ہے اور ایک طیارے سے فلائٹ آپریشن نہیں کیا جاسکتا لہذٰا جب تک قابلِ استعمال طیاروں کی تعداد کم از کم تین نہیں ہوجاتی اس وقت تک بھوجا ائیر کے فلائٹ آپریشن پر پابندی برقرار رہے گی۔

انہوں نے کہا ’جب تک کم سے کم طیاروں کی شرط پوری نہیں ہوتی اور تمام طیارے مطلوبہ معیار کے مطابق جانچ کے مرحلے طے نہیں کرتے اس وقت تک بھوجا ائیر کو فلائٹ آپریشن کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

بھوجا ائیر کا طیارہ اسلام آباد ایئرپورٹ کے قریب انتیس اپریل کو گِر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں عملے سمیت ایک سو ستائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

دوسری جانب بھوجا ایئر کے ترجمان چودھری سلمان نے بی بی سی کے نامہ نگار ارمان صابر سے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی ادارے کے فلائٹ آپریشن پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کے پاس ایک طیارہ قابلِ استعمال ہے جبکہ دوسرا طیارہ پاکستان پہنچ چکا ہے، کراچی ایئرپورٹ پر کھڑا ہے اور وہ فِلیٹ میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔

چودھری سلمان نے کہا کہ ایک اور جہاز جو ویٹ (wet) لیز پر تھا اسے فلائٹ آپریشن محدود ہونے کے باعث واپس بھیج دیا گیا تھا جو اب دوبارہ منگوا لیا گیا ہے اور بہت جلد پاکستان پہنچ جائے گا۔

بھوجا ایئر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگلے تین سے چار دن میں فلیِٹ مکمل ہوجائے گا جس کے بعد سول ایوی ایشن کے حکام کو مطلع کردیا جائے گا اور متعلقہ کارروائی کے بعد بہت جلد فلائٹ آپریشن بھی شروع کردیا جائے گا۔

بھوجا طیارے کی تحقیقات

سول ایوی ایشن کے ترجمان پرویز جارج نے کہا کہ بھوجا ایئر کے طیارے کے حادثے کی تحقیقات جاری ہیں۔

’اس کے بلیک باکس اور وائس ریکارڈر کو ڈی کوڈ کرلیا گیا ہے جو تحقیقات کا حصہ ہیں اور ان سے بھی مدد مل رہی ہے۔ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور جب یہ مکمل ہوجائیں گی تو تحقیقاتی رپورٹ حکومت کو بھیج دی جائی گی۔‘

گزشتہ روز فضائی حادثوں پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم سوسائٹی فار ائیر سیفٹی انویسٹی گیشن نے کراچی میں کہا تھا کہ جس کمپنی کا جہاز گرا ہے اس کے تفتیش کاروں کو تحقیقات میں شامل کیے جانے سے تحقیقات مشکوک ہوسکتی ہیں۔

تاہم سول ایوی ایشن کے ترجمان پرویز جارج کا کہنا ہے کہ جس ملک میں متاثرہ جہاز رجسٹرڈ ہوتا ہے اس ملک کی سول ایوی ایشن تحقیقات کرواتی ہے، دوسری بات یہ کہ جہاز کے جو مالکان ہوتے ہیں وہ لوگ بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس کمپنی نے طیارہ بنایا ہوتا ہے ان کے نمائندے بھی تحقیقات میں شامل ہوتے ہیں کیونکہ وہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی کمپنی کا بنایا ہوا جہاز کیسے گِر گیا۔

پرویز جارج نے کہا کہ یہ اور دیگر تمام افراد مل کر تحقیقات کرتے ہیں اور پھر کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں اور اس کے بعد اس کی رپورٹ مرتب کی جاتی ہے، اور یہ تمام عمل بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوتا ہے۔

اسی بارے میں