حج سکینڈل: حامد سعید کاظمی پر فرد جُرم عائد

حامد سعید کاظمی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حامد سعید کاظمی اور دیگر ملزمان ان دنوں اڈیالہ جیل میں ہیں۔

راولپنڈی کی خصوصی عدالت کے جج نے حج انتظامات میں ہونے والی کروڑوں روپے کی مبینہ بدعنوانی کے مقدمے میں حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی سمیت تین افراد پر فرد جُرم عائد کردی ہے جبکہ اس مقدمے کے ایک اہم ملزم احمد فیض کو اشتہاری ملزم قرار دیا گیا ہے۔

سپیشل جج سینٹرل میاں خالد شبیر نے بدھ کے روز اس مقدمے کی سماعت کی تو اس مقدمے کی تحقیقیات کرنے والے ایف آئی اے یعنی وفاقی تحققیاتی ادارے کی طرف سے پیش کردہ چالان کی روشنی میں حامد سیعد کاظمی سمیت تین ملزمان پر فرد جُرم عائد کی گئی۔

دیگر ملزمان میں سابق ڈائریکٹر جنرل حج راؤ شکیل اور وزارت مذہبی امور کے سابق جوائنٹ سیکرٹری آفتاب اسلام شامل ہیں۔

ان ملزمان کی موجودگی میں عدالت نے اُن پر فردجُرم عائد کی تاہم ملزمان نے جرم صحت سے انکار کیا۔ عدالت نے اس مقدمے میں شہادتیں قلمبند کرنے کے لیے دس افراد کو نوٹس جاری کر دیے ہیں جن کے بیانات پانچ جون کو ریکارڈ کیے جائیں گے۔

اس مقدمے میں اشتہاری قرار دیے جانے والے احمد فیض پرسعودی عرب میں عازمین حج کے لیے مہنگے داموں کرائے پر عمارتیں حاصل کرنے کا الزام ہے۔

اس مقدمے میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے اور پنجاب اسمبلی کے رکن عبدالقادر گیلانی سے بھی تحقیقات کی گئی ہیں۔

حج انتظامات میں ہونے والے مبینہ بدعنوانی کی نشاندہی نہ صرف ارکان پارلیمنٹ بلکہ سعودی عرب کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی کی تھی۔

سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی اور دیگر افراد کے خلاف کارروائی سپریم کورٹ کے حکم پر شروع ہوئی اور اس مقدمے کی تحقیقات کے سلسلے میں ایف آئی اے یعنی وفاقی تحققیاتی ادارے کے دو ڈائریکٹر جنرل تبدیل ہوچکے ہیں۔

اس سے پہلے حامد سعید کاظمی نے اس مقدمے سے بریت کے لیے متعلقہ عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ چونکہ ایف آئی اے کے پاس اُن کے خلاف کوئی شواہد نہیں ملے لہذا اُنہیں اس مقدمے سے بری کردیا جائے جسے عدالت نے مسترد کرد یا تھا۔

سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں حامد سعید کاظمی کا کہنا تھا کہ اُنہیں انصاف نہ ملنے پر مایوسی ہوئی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کے پاس اُن کے اس معاملے میں ملوث ہونے کے کوئی ثبوت بھی نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود اُنہیں رہا نہیں کیا جا رہا۔

سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کے حکام نے اُنہیں بتایا ہے کہ اُن پر شدید دباؤ ہے تاہم حامد سعید کاظمی نے یہ نہیں بتایا کہ ایف آئی اے پر دباؤ کس ادارے کی طرف سے ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سابق وفاقی وزیر، اعظم سواتی کے خلاف ہرجانے کا دعوی دائر کر رکھا ہے۔

حامد سعید کاظمی اور دیگر ملزمان ان دنوں اڈیالہ جیل میں ہیں اور قومی اسمبلی یا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر سپیکر کی طرف سے پروڈکشن آرڈر کے بعد حامد سعید کاظمی کو اجلاس میں شریک ہونے کے لیے جیل سے رہا کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں