کشمیری عسکریت پسندوں کی پرامن زندگی کی طرف واپسی

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر سے برسوں پہلے مبینہ طور پر عسکری تربیت اور اسلِحے کے حصول کی خاطر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آنے والے نوجوان اب عسکریت پسندی ترک کر کے واپس اپنےگھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ دوسری جانب عسکری تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے عہدے داروں نے اعتراف کیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان قیام امن کی کوششوں کی بحالی کے بعد پاکستانی حکام نے ان کے انتظامی اخراجات میں پچاس فیصد کمی کر دی ہے۔

بندوق سے امن تک کا سفر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کشمیری عسکری تنظیموں کے مطابق گذشتہ ڈیڑھ برس کے دوران اب تک لگ بھگ چھ سو کشمیری عسکریت پسند پرامن زندگی گزرانے کے لیے واپس بھارت کے زیرِانتظام کشمیر جا چکے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انیس سو اٹھاسی میں شروع ہونے والی مسلح تحریک کے دوران وادی سے ہزاروں نوجوان مبینہ طور پر تربیت اور اسلحہ کے لیے کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آئے تھے۔

ان میں سے اکثر ابتدائی سالوں میں ہی بھارتی فوج سے لڑنے کی خاطر واپس چلے گئے جن میں سے کئی مارے گئے، کچھ گرفتار ہوئے تاہم بعض اب بھی سرگرم ہیں۔

لیکن اب واپسی کا ایک نیا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بڑی تعداد میں کشمیری نوجوان جو اسلحے کی تربیت اور بندوق لینے تو آئے تھے اب وہ تشدد کو ترک کر کے ایک نئی زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں۔

کشمیری عسکریت پسند محمد احسن سنہ 1999 میں لائن آف کنٹرول عبور کر کے وادی کشمیر سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آئے تھے لیکن پھر کبھی واپس نہیں جا سکے۔

انہوں نے یہاں شادی کی اور ان کے دو بچے بھی ہیں۔ جب ان سے بات چیت کی تو وہ واپس جانے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔

احسن نے کہا کہ’وہاں( وادی کشمیر) جا کر اپنے گھر میں کاشت کاری کروں گا، اور کیا کر سکتا ہوں اور کوئی کام نہیں کر سکتا، وہ (گھر والے) مجھے کہہ رہے ہیں کہ واپس آئیں ہمیں آپ کی ضرورت ہے۔ میں گھر میں بڑا ہوں اور میرا ایک چھوٹا بھائی ہے۔‘

کشمیری عسکریت پسند کا کہنا ہے کہ وہ امن کا پیغام لے کر واپس جا رہے ہیں۔ ’امن سے رہیں گے، بندوق کو ہم نے الوداع کہہ دیا ہے۔ہم اس( بندوق) کا نام بھی کبھی نہیں لیں گے۔‘

آخر ایسا کیا ہوا کہ جس نے ان کی سوچ بدل دی ہے؟

محمد احسن نے کہا کہ’ہمارا یہاں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، یہاں مہنگائی ہے، اپنا مکان ہے اور نہ ہی کوئی کاروبار، مہاجر کارڈ پر ماہانہ چھ ہزار روپے ملتے ہیں جس سے ہمارا کیا گزارا ہوتا۔اس لیے ہم نے سوچا اپنے گھر ہی واپس چلے جائیں، وہاں اپنا گھر تو ہے، اپنی زمین، جائیداد ہے۔ اس پر گزر بسر کر لیں گے، کسی کے سامنے ہاتھ تو نہیں پھیلانا پڑے گا۔‘

یہ کہانی صرف احسن ہی کی نہیں ہے بلکہ واپس جانے والے یا واپسی کی خواہش رکھنے والے ہر کشمیری عسکریت پسند کی یہی کہانی ہے۔

سنہ 2001 میں وادی کشمیر سے مظفرآباد آنے والے ایک کشمیری عسکریت پسند رفیق احمد نے کہا کہ گذشتہ ایک سال میں ان کے کئی ہمسائے اور دوست واپس جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ’ پندرہ سے بیس لوگ واپس چلے گئے ہیں اور وہ بھی نیپال کے ذریعے واپس گئے ہیں۔میری ان سے بات ہوتی رہتی ہے، وہ تو کہہ رہے ہیں کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے ہم ٹھیک ہیں، خوش ہیں، اپنے گھر میں رہ رہے ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ انھیں کچھ عرصہ گرفتار رکھا گیا اور بعد میں رہا کیا گیا اور اب وہ معمول کی زندگی گزار رہے ہیں۔

گزشتہ سال جنوری سے شروع ہونے والے اس عمل سے باخبر ایک کشمیری عسکریت پسند غلام محمد نے بتایا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے چھ سو شدت پسند واپس جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان قیام امن کی کوششوں کی بحالی کے بعد واپسی کے عمل بھی تیزی آئی ہے اور صرف رواں سال میں واپس جانے والوں کی تعداد پانچ سو ہے۔

غلام محمد کے مطابق ’دو ہزار بارہ میں بیس مئی تک پانچ سو عسکریت پسند واپس چلے گئے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ان میں زیادہ تر ایسے تھے جنہوں نے پاکستان یا اس کے زیر انتظام کشمیر میں شادیاں کیں اور وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ واپس چلے گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ واپس جانے کے لیے عسکریت پسندوں کی ایک قطار لگی ہوئی ہے اور ہر ہفتے تقریباً دس سے پندرہ عسکریت پسند نپیال کے راستے واپس جا رہے ہیں۔

لائن آف کنٹرول پر ہندوستان اور پاکستان کی فوجیں تو موجود ہیں لیکن سنہ 2003 میں دونوں ممالک کے درمیان قیام امن کا عمل شروع ہونے کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا معاہدہ ہوا جو اب تک قائم ہے۔

ہندوستان نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لائن آف کنٹرول پر خار دار تاریں لگا دیں اور نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے جدید آلات نصب کیے اور پاکستان نے بھی عالمی دباؤ کے نتیجے میں شدت پسندوں پر پابندیاں لگائیں۔ ان اقدامات سے لائن آف کنٹرول عبور کرنا انتہائی مشکل بن گیا۔

اس صورتحال میں لڑنے کی غرض سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر جانے والے عسکریت پسندوں کی تعداد میں بھی انتہائی کمی آئی ہے۔

بعض بھارتی فوج سے لڑنے کے لیے اب بھی لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی کوششں کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو وادی میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن اکثر مارے جاتے ہیں۔

پرامن زندگی گزارنے کے لیے اپنے گھروں کو واپس جانے والے نوجوانوں کامسئلہ یہ ہے کہ وہ ممکنہ خطرے کی وجہ سے لائن آف کنٹرول کا راستہ استعمال نہیں کرتے۔

اس کے بجائے انہیں زیادہ طویل لیکن قدرے محفوظ سمجھے جانے والے راستوں کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ ان راستوں میں سے ایک پاکستان سے نیپال اور پھر وہاں سے بھارت جانے کا ہے جو وہ اختیار کر رہے ہیں۔

کشمیری عسکریت پسند محمد احسن نے کہا’ انہیں اپنا، اپنی اہلیہ اور دو بچوں کے لیے نیپال تک ایک لاکھ تیس ہزار پاکستانی روپے جہاز کے ٹکٹ کے طور پر ادا کرنا پڑے ہیں اور جلد ہی وہ روانہ ہو جائیں گے‘۔

انہوں نے کہاکہ ’میرے پاس کرائے کے لیے پیسے نہیں تھے اور میں نے پانچ پانچ سو، ایک ایک دو دو ہزار جمع کیے اور گھر سے بھی پیسے منگوائے۔‘

وادی کشمیر میں برسرپیکار لگ بھگ ایک درجن کشمیری عسکری تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے سیکرٹری جنرل شیخ جمیل الرحمان بھی مانتے ہیں کہ نوجوان اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں۔

انہوں نے اس کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہاکہ ’پاکستان نے اپنی پالیسی بدل دی ہے اور دوسرا یہ کہ ساتھیوں کے معاشی مسائل بھی ہیں اور تیسری بات یہ کہ وادی میں ان کے والدین اور بیوی بچے ہیں جن سے وہ ملنا چاہتے ہیں‘۔

لیکن عسکریت پسند رہنما کا کہنا ہے کہ واپس جانے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔

’واپس جانے والے گنے چنے لوگ ہیں، ہم کسی کو نہیں روک سکتے ہیں اور نہ حکومت پاکستان انہیں روک سکتی ہے۔ کوشش تو ہے کہ وہ نہ جائیں اور یہاں ہی استقامت کے ساتھ رہیں لیکن جو جانا چاہیں وہ جا سکتے ہیں، اس سے مسلح تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیوں کہ مجاہدین کی اکثریت اب بھی مسلح تحریک اور قیادت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔‘

لیکن جس رفتار اور تعداد میں لوگ واپس جا رہے ہیں اسے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عسکریت پسند رہنما کا بیان حقیقت کے برعکس ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے تـجزیہ نگار ارشاد محمود کا کہنا ہے کہ غالب اکثریت واپسی کا سوچ رہی ہے۔

‘دیکھیے بہت سارے لوگوں کے ساتھ مجھے بات کرنے کا موقع ملا ہے ۔ ان میں غالب اکثریت ایسی ہے جو واپس اپنے گھروں کو جانے چاہتی ہے، وہاں آباد ہونا چاہتی ہے، وہاں پر امن زندگی گذرانا چاہتی ہے۔‘

کشمیری عسکریت پسندوں کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اب بھی تین سے چار ہزار عسکریت پسند موجود ہیں۔

ان میں بہت سارے ایسے ہیں جو واپس تو جانا چاہتے ہیں لیکن نہ تو قسمت اور نہ ہی جیب انہیں اس کی اجازت دے رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارتی حکومت کے اقدامات کی وجہ سے لائن آف کنٹرول عبور کرنا انتہائی مشکل بن گیا

واپسی کے عمل سے باخبر کشمیری عسکریت پسند غلام محمد خود بھی واپسی کی خواہش تو رکھتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ مالی مشکلات ان کے آڑے آ رہی ہیں۔

‘میں اپنے ماں باپ کے پاس واپس جانا چاہتا ہوں۔ جیسے ہی کچھ رقم کا بندوبست ہوجائے گا تو چلے جائیں گے، یہاں نہیں رہوں گا۔ابھی پیسوں کا کوئی بندوبست نہیں ہے، پیسے بچتے ہی نہیں ہیں، میں ہوں، میری بیوی ہے، دو بچے ہیں، کرایے کے مکان میں رہتے ہیں، جو کماتے ہیں وہ کھاتے ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ان کا اور ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ نہیں ہے۔

’مجھے مہاجر کارڈ سے چھ ہزار روپے ملتے ہیں اور اس کے علاوہ ٹیکسی چلاتا ہوں، مہینے میں بارہ تیرہ ہزار ہو جاتے ہیں۔اس میں گزارا نہیں ہوتا۔ میرے دو بیٹے ہیں- ایک کی عمر چودہ سال ہیں اور دوسرے کی عمر آٹھ سال ہے۔میں ان کو نہیں پڑھا سکتا ہوں، میں ان کی تعلیم کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا ہوں، ہماری بہتری واپسی میں ہی ہے۔‘

غلام محمد کو پاکستان اور کشمیری رہنماؤں سے بھی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں استعمال کیا۔

’کوئی جہاد نہیں ہورہا ہے، ہمارے ( کشمیری ) لیڈروں نے اس کو کاروبار بنا دیا ہے۔اگر ہم ان کو بولتے ہیں کہ واپس جانا ہے تو کہتے ہیں کہ جاؤ جہاں جانا ہے، ہمارے پاس کچھ نہیں ہے اپنا بندوبست خود کرو۔ پاکستان نے بھی ہمیں استعمال کیا۔‘

پیسے نہ ہونے کی وجہ سے بعض کشمیری عسکریت پسند تو یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان ان کی باعزت واپسی کا انتظام کرے۔

سنہ 2001 سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مقیم رفیق احمد کا کہنا ہے ’جہاد تو ختم ہو چکا ہے اور میں اس کو ٹھیک سمجھتا ہوں، اس (مسلح جدوجہد میں) میں بےگناہ لوگوں کی جانیں چلی گئیں، اس میں عزتیں چلی گئیں، اس میں معصوم بچے مارے گئے۔آزادی اس طرح سے نہ ملنا تھی اور نہ ہی ملے گی، مجبور لوگ اپنے گھر کا سامان بیچ کر گھر واپس جا رہے ہیں، پاکستان ہمیں با عزت طریقے سے واپس بھیجے اور ہمیں اخراجات دیں جو ہمیں وہاں پہنچے کے لیے لگتے ہیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس طرح سے ان کے لیے ساز گار حالات پیدا کیے جا رہے ہیں تا کہ یہ معمول کی زندگی شروع کر سکیں: ارشاد محمود

کشمیری تجزیہ نگار ارشاد محمود کے نزدیک اس سارے عمل میں جہاں ہندوستان انہیں سہولت فراہم کر رہا ہے وہیں حکومتِ پاکستان بھی کوئی رکاوٹ نہیں ڈال رہی ہے۔

ان کا کہنا ہےکہ ’بظاہر یہ نہیں لگتا ہے کہ پاکستان واپس جانے والوں کے لیے کوئی سہولت فراہم کر رہا ہے یا ان کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔لیکن ابھی تک جو پانچ چھ سو لوگ گئے ہیں تو ابھی تک ایسا کوئی مثال سامنے نہیں آئی جس کی بنیاد پر یہ کہا جائے کہ پاکستان نے کسی کو جانے سے روکا ہو۔ پاکستان میں مجھے ایسی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی ہے کہ لوگوں کو روکا جا رہا ہو۔‘

ارشاد محمود کا کہنا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر واپس جانے والے عسکریت پسندوں کے لیے بحالی کی پالیسی اپنائی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس طرح سے ان کے لیے ساز گار حالات پیدا کیے جا رہے ہیں تا کہ یہ معمول کی زندگی شروع کر سکیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پھنسے ہوئے کئی کشمیری عسکریت پسندوں میں امن کی خواہش بہت زیادہ ہے اور وہ اس حق میں ہیں کہ تنازعہ کشمیر کا حل بندوق کے بجائے مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان دونوں ممالک کو ان کی اور ان کے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ان کی اپنے گھروں کو واپسی آسان بنانے کے لیے کوئی راستہ نکالنا چاہیے۔

کیا پاکستان ہاتھ کھینچ رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں برسرپیکار عسکری تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے عہدے داروں نےاعتراف کیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان قیام امن کی کوششوں کی بحالی کے بعد پاکستان حکام نے ان کے انتظامی اخراجات میں پچاس فیصد کمی کر دی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کے اس اقدام سے یہ اشارے ملتے ہیں کہ وہ وادی کشمیر میں دم توڑتی ہوئی عسکریت سے مکمل طور پر ہاتھ کھینچ رہی ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

لیکن پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ وہ بھارت سے آزادی کے حامی کشمیریوں کی صرف سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد کرتا رہا ہے۔

متحدہ جہاد کونسل کے ایک اہم عہدیدار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ حکومت پاکستان نے رواں سال جہاد کونسل میں شامل تقریباً تمام تنظیموں کے انتظامی اخراجات پچاس فیصد کم کر دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ رقم مکان کے کرائے، بجلی، گیس اور ٹیلیفون کے بلوں کی ادائیگی کے علاوہ ان تنظیموں کے دفاتر کے عملے، گاڑیوں کی مرمت، ایندھن کے لیے فراہم کی جاتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کونسل میں شامل ایک عسکریت پسند تنظیم کے اہم رہنما سے بات ہوئی تو انہوں نے بھی اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر فنڈز میں کٹوتی کی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا کہ چوبیس سالہ مسلح تحریک میں ایسا پہلی بار ہے کہ حکومت پاکستان نے اخراجات میں اتنی زیادہ کمی کی ہے۔

ایک اور تنظیم کے کمانڈر نے بھی بی بی سی سے بات کرتے کہا کہ’جی ہاں، ایسا کیا گیا ہے۔‘

متحدہ جہاد کونسل کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام ان اخراجات میں کمی کے فیصلے کی وجہ مالی مشکلات بتا رہے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں برسر پیکار عسکری تنظیمیں حکومت پاکستان کے اس اقدام کو شک کی نظر سے دیکھتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ لگتا ہے کہ حکومت پاکستان رفتہ رفتہ کشمیر کی مسلح تحریک سے پوری طرح ہاتھ کھینچ رہی ہے اور یہ اقدام اسی جانب ایک اور قدم ہے۔

ساتھ ہی ان کا یہ بھی خیال ہے کہ پاکستان یہ سب کچھ اس لیے کر رہا ہے کہ قیام امن کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے ہندوستان کی تشویش کم کر سکے۔

کشمیری عسکری ذرائع مانتے ہیں کہ سنہ 2002 میں جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت نے بھی بھارت کے عسکری تنظیموں پر کئی طرح کی پابندیاں عائد کی تھیں۔ مثلاً وادی میں سرگرمیوں کے لیے پیسے بند کرنا اور لائن آف کنٹرول کے آر پار جانے پر پابندی لگانا شامل تھا۔

متحدہ جہاد کونسل بارہ کشمیری تنظیموں پر مشتمل اتحاد ہے اور اس میں کوئی پاکستانی تنظیم شامل نہیں ہے۔

ان میں حزب المجاہدین ہی واحد ایسی تنظیم ہے جو اب بھی ایک موثر تنظیم سمجھی جاتی ہے جبکہ دیگر تنظیمیں تقریباً غیر موثر ہو چکی ہیں۔

حزب المجاہدین کے بارے میں یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان کے دفتری اخراجات میں کمی کی گئی ہے یا نہیں۔

عسکری تنظیموں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مقیم کشمیری عسکریت پسندوں کی بحالی کے لیے دی جانے والی امداد بھی روک دی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کے دور حکومت میں اس پالیسی کا آغاز ہوا تھا جس کے تحت کشمیری عسکریت پسندوں کو شادی کے لیے پچاس ہزار روپے دیے جاتے تھے اور اتنی رقم کاروبار شروع کرنے کے لیے دی جاتی تھی۔

اس پالیسی کا بھی بظاہر مقصد کشمیری عسکریت پسندوں کو پرامن زندگی شروع کرنے لیے موقع فراہم کرنا تھا۔

البتہ عسکری تنظیموں کے ذرائع اور بعض شدت پسندوں سے بات کر کے یہ معلوم ہوا کہ عسکریت پسندوں کو ماہانہ جو چھ ہزار روپے دیے جاتے ہیں وہ بدستور دیے جا رہے ہیں۔

کشمیری تنظیمیں یہ اعتراف کرتی ہیں کہ حکومت پاکستان کے ان اقدامات کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہ یہ مانتے ہیں کہ یہ اقدامات بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عسکری تحریک کمزور پڑنے کی اہم وجہ ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے تجزیہ نگار ارشاد محمود کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے بڑی گرمجوشی سے تعلقات آگے بڑھ رہے ہیں اور پاکستان میں اب ایک رائے یہ پائی جاتی ہے کہ پرامن طریقے سے تنازعات حل کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا’ آپ نے دیکھا ہوگا ہندوستان کے رویے میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ان حالات میں کسی ( عسکری) ڈھانچے کی موجودگی پاکستان کے لیے مفید نہیں۔اسے پاکستان ہندوستان کوئی اچھا پیغام نہیں دے سکتا ہے۔ اگر کوئی (عسکری) ڈھانچہ موجود تھا اور اس کو لپیٹا جا رہا ہے وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان وسیع تر مفاہمت کا حصہ ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں بھی عسکریت کو کوئی زیادہ حمایت حاصل نہیں رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ’پاکستان میں اب لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر بندوق بردار سوات میں ہوں تو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں تو سرینگر میں کسی حملے یا بم دھماکے میں لوگ مارے جائیں تو اس کی حمایت کیسے کریں گے۔‘

واضح رہے کہ ہندوستان پاکستان پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں شورش کو ہوا دے رہا لیکن پاکستان نے ہمیشہ اس کی تردید کی۔ پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ وہ بھارت سے آزادی کے خواہاں لوگوں کی صرف اخلاقی، سیاسی اور سفارتی مدد کرتا رہا ہے۔

عسکریت پسندی پر پچھتاوا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تحریک کے دوران جن کشمیری نوجوانوں نے بندوق اٹھائی تھی ان میں سے کئی اب تشدد ترک کرنے کے حامی اور امن کے علمبردار کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے یہ نوجوان لائن آف کنٹرول کے اس پار پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں برسوں سے رہ رہے ہیں۔

یہ لوگ بھارت کے کنٹرول سے کشمیر کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کے لیے ضروری تربیت اور وسائل کی خاطر آئے تھے اور ان کی تعداد ہزاروں میں تھی۔

ان کی اکثریت تو تربیت کے بعد بھارتی فوج سے لڑنے لائن آف کنٹرول کے اس پار چلے گئے اور جو یہاں رہ گئے ان کی بڑی تعداد نے تشدد ترک کر کے معمول کی زندگی شروع کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کافی تعداد میں عسکریت پسند لآین آف کنٹرول پار کرتے ہوئے بھارتی فوج کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں

ان میں سے ایک محمد حسین ہیں جو سنہ 1994میں لائن آف کنٹرول پار کر کے مظفرآباد آئے اور یہاں انہوں نے شادی کی اور ان کے تین بچے ہوئے۔

حسین نے عسکری تربیت حاصل کی تھی لیکن اب وہ عسکریت ترک کر چکے ہیں اور آٹو رکشہ چلا کر اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ’بندوق سے کبھی بھی آج تک کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا۔ ہمارا ذہن یہ کہتا ہے کہ یہ امن سے ہوگا، بھوک ہڑتال سے ہوگا اور میرے خیال میں بندوق نہیں ہوگا۔ ہم تو ادھر کے حالات جانتے ہیں اور یہاں کے حالات دیکھ کر ہم نے فیصلہ کیا کہ ہمیں امن سے رہنا ہے۔‘

شفیق کو اس پر پچھتاوا ہے کہ وہ عسکریت پسند کیوں بنے۔

’اگر ہم اس وقت جذبات میں نہ آتے اور یہاں آنے کا فیصلہ نہ کرتے تو وہاں پر ہماری زندگی بھی اچھی ہوتی، ساری زندگی دربدری کی، بیٹھ بیٹھ کر اپنے بال سفید کیے، اگر ہم ادھر وادی میں ہوتے تو ہمارے بھی اپنا مکان ہوتا، ہمارا بھی کام کاج ہوتا اس لیے بہت پچھتا رہے ہیں۔‘

خورشید احمد بھی برسوں سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہیں اور انہوں نے بھی مظفرآباد میں ہی گھر بسا لیا۔ اب وہ اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ مظفر آباد میں رہتے ہیں اور وہ سرکاری ملازمت کر کے گزر بسر کرتے ہیں۔

خورشید نے کہاکہ’تربیت ہم نے یہ سوچ کر کی تھی کہ ہم اللہ کی رضا کے لیے جا رہے ہیں جو ہمیں بتایا گیا تھا کہ اللہ کے راہ میں آپ جہاد کریں، جب ہم یہاں آئے تو نے اللہ کی راہ میں جہاد نہیں دیکھا، یہاں تحریک کو ہم نے کاروبار بنا دیا ہے، ہماری وجہ سے اگر وہاں بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں۔ ہم ایک گولی چلاتے ہیں وہ ( بھارتی فوج) ہزاروں گولیاں برساتے ہیں۔ اس سے بہتر ہے کہ اس چیز سے کنارہ کشی کی جائے۔ اس ( مسئلہ کشمیر) کا متبادل طریقے سے میز پر بیٹھ کر حل ہوتا ہے تو اس طریقے سے اس کا حل نکالا جائے۔‘

منیر احمد کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔وہ بھی کشمیر کی آزادی کے لیے جنگ کی خاطر تربیت لینے مظفر آباد آئے تھے۔

تربیت بھی لی، واپس جا کر عسکری کارروائیوں میں حصہ بھی لیا لیکن وقت انہیں دوبارہ مظفرآباد لے آیا اور اب کی زندگی میں بارود نہیں بلکہ گھر بار اور اس کے جھمیلے ہیں۔

وہ مظفرآباد کے مصروف بازار میں کھانے پینے کی اشیاء بیچ کر اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

منیر احمد نے بندوق ترک کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ’بندوق اس لیے چھوڑی جب کوئی مقصد ہی نہیں رہا، لائن آف کنٹرول کے اس پار سے ہمارے سربراہ ہمیں یہاں لائے اور وہ خود اسلام آباد میں بڑی بڑی کوٹھیوں میں بیٹھ کر عیش کر رہے ہیں اور چھوٹے موٹے لوگ دربدر ہیں، ان کو کوئی پوچھ نہیں رہا کہ کون زندہ ہے اور کون مرگیا ہے، ہم مجبور تھے، چھوڑنے کے لیے کیوں کہ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں رہا۔‘

منیر احمد کو گھر چھوڑنے کا پچھتاوا ہے۔

’ہمیں پچھتاوا ہے کہ ہم ادھر( مظفرآباد) آئے ہی کیوں، ہم اپنے گھروں میں ٹھیک تھے، وہ بھی نہیں ہوا جو کرنا تھا، کشمیر کا مسئلہ وہیں کا وہیں ہے، کچھ عرصہ جہاد چلا، اب خالصتاً کاروبار چل رہا ہے، ہم پر بہت گناہ ہیں، نہ جانے کتنے لوگوں اور ماؤں بہنوں کو ہماری وجہ سے تکلیف پہنچی ہوگی۔‘

عسکری تنظیموں کے ذرائع کے مطابق اب بھی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تین سے چار ہزار کشمیری جنگجو موجود ہیں جن میں کئی ایسے ہیں جو اب بندوق کے بجائے امن کی بات کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اور بھی لوگ ان کے ہم خیال بن رہے ہیں کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ بندوق کشمیر کے تنازعے کا حل نہیں ہے بلکہ اس کو پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔

کشمیر واپسی: ’بچوں کا کیا ہوگا؟‘

بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے جو سینکڑوں نوجوان برسوں پہلے عسکری تربیت کے لیے پاکستانی زیرانتظام کشمیر گئے تھے، وہ طویل عرصہ کے بعد واپس جا رہے ہیں۔ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں واپس لوٹنے والوں کی تعداد سو سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ ایک ہزار سے زائد خاندانوں نے اپنے رشتہ داروں کی واپسی کے لیے حکومت کو عرضی دی ہے۔

واپس لوٹنے والے کشمیریوں کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کا مقام نہیں ہوسکتا ہے کہ واپس اپنے وطن پہنچے ہیں، لیکن حکومت کی آبادکاری پالیسی کے تحت ہونے والی اس واپسی کے ساتھ کئی مسائل جُڑے ہیں۔

اہم مسئلہ یہ ہے کہ واپس لوٹنے والے اکیلے نہیں بلکہ اپنی پاکستانی بیویوں اور بچوں کے ساتھ کشمیر پہنچے ہیں، اور وہاں انہیں اپنے بچوں کا تعلیمی مستقبل مخدوش نظر آ رہا ہے۔

بائیس سال قبل عسکریت پر سماجی زندگی کو ترجیح دینے والے شبیر احمد ڈار کی پاکستانی بیوی کشمیر آنے پر خوش ہیں، لیکن ان کے بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں جس کے باعث پریشان ہیں۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی شبیر احمد کی بیوی زیتون شبیر کہتی ہیں کہ’خاوند کے وطن لوٹنا اچھی بات ہے، لیکن میرے بچے بڑی کلاسز میں ہیں، انہیں یہاں داخلہ نہیں ملتا۔ پاکستانی اسناد کو کوئی نہیں مانتا۔ اگر ہمیں لایا گیا تو اس بارے میں سوچنا چاہیے تھا۔‘

ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو نوجوانی کے دوران ہی وہاں پہنچے۔ ایسے ہی ایک نوجوان عارف احمد کہتے ہیں کہ انہیں پاکستان دیکھنے کا شوق تھا اور جب حرکت الانصار کے ایک عسکریت پسند جس کا نام وہ ’زخمی شیر‘بتاتے ہیں، نے انہیں کنٹرول لائن پار کرنے کے لیے کہا تو وہ فوراً تیار ہوگئے۔‘

لیکن عارف کہتے ہیں کہ پاکستان پہنچے پرانہیں مایوسی ہوئی۔ انہوں نے کیمپ سے نکل کر راولپنڈی کے ایک کالج میں داخلہ لیا اور آٹو موبائل انجینیئرنگ میں تربیت حاصل کر لی۔ واپسی سے قبل وہ ٹویوٹا کار کمپنی میں ملازم تھے۔

’میں تو نوکری کرتا تھا، یہاں مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں کیا کروں۔‘

عارف احمد کے علاوہ ایسے متعدد کشمیری نوجوان ہیں جو کسی رکاوٹ کے بغیر پاکستانی شہروں میں بال بچوں کے ساتھ آباد ہوگئے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے مشکلات واپسی کے بعد شروع ہوئے ہیں۔

حکومت ہند نے ایسے نوجوانوں کو واپس لانے کا جو منصوبہ بنایا ہے اس پر عمل کے تحت اب تک سو سے زائد کشمیری واپس لوٹے ہیں۔ لیکن جو لوگ واپس آئے ہیں انہیں اپنے ہی وطن میں اجنبیت کا احساس ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ واپس لوٹنے والے کشمیری نوجوان اکیلے نہیں بلکہ پاکستانی بیویوں اور بچوں سمیت آئے ہیں۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس واپس لوٹنے والے سابق عسکریت پسندوں کی بحالی اور آباد کاری کے لیے کچھ منصوبوں پر عمل کر رہی ہے، لیکن ان کے خاندانوں کی ذمہ داری لینے کے لیے کوئی تیار نہیں۔

پچھلے دو سال سے اپنے دو بھائیوں کی واپسی کے لیے سرگرم رہ چکے منظور احمد کہتے ہیں کہ حکومت سے یہ پالیسی مرتب کرتے وقت سب سے بڑی غلطی ہوئی۔

’حکومت کو معلوم تھا کہ جو لڑکے بائیس سال قبل گئے ہیں وہ لڑکے ہی واپس نہیں آئیں گے، وہ تو بوڑھے ہوکر واپس آگئے ہیں، ان کے ساتھ چار چار پانچ پانچ بچے ہیں، بیویاں ہیں۔ ان کے کنبے کی سلامتی، تعلیم اور روزگار کا کیا ہوگا۔‘

واپس لوٹنے والے بعض نوجوانوں کے لیے سماجی مسائل بھی پیدا ہوگئے ہیں۔

آبائی جائیداد کی تقسیم اور ایک ہی گھر میں رہنے سے متعلق کچھ مسائل ایسے ہیں جو ان نوجوانوں کو مایوس کر رہے ہیں۔ ایسے کئی نوجوانوں کو فی الوقت گھر اور روزگار دونوں کی تلاش ہے۔

واضح رہے کشمیرمیں پہلے ہی ایسے لوگوں کی تعداد پینتیس ہزار تک پہنچ چکی ہے جو طویل قید کاٹ کر تشدد ترک کر چکے ہیں۔ وہ لوگ اب ہند نواز یا علیٰحدگی پسندوں گروپوں کے ’گراونڈ سولجرز‘ بن گئے ہیں اور ان میں سے ایک تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو فوج یا پولیس کے لیے مخبری کرتے ہیں۔

کشمیر پولیس کے سربراہ ایس ایم سہائے کا کہنا ہے ’سابق عسکریت پسندوں کی باز آباد کاری کا مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں