دوہری شہریت، رحمان ملک کی دستاویزات مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت نے مقدمے کی سماعت چار جون تک کے لیے ملتوی کرد ی

سپریم کورٹ نے ارکان پارلیمان کی جانب سے دوہری شہریت سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران وزیر داخلہ رحمان ملک کی برطانوی شہریت ختم کرنے سے متعلق جمع کروائے گئے دستاویزات کو مسترد کر دیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ ان دستاویزات پر متعلقہ محکمے کی مہر نہیں ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ آئندہ سماعت پر مستند دستاویزات پیش نہ کی گئیں تو وزیر داخلہ کی پارلیمان کی رکنیت معطل کر دی جائے گی۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے سپریم کورٹ نے حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی بیوی فرح ناز اصفہانی کی امریکی شہریت رکھنے پر ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل کردی تھی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کو دوہری شہریت سے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وزیر داخلہ رحمان ملک کے وکیل چوہدری اظہر نے اپنے موکل کی جانب سے برطانوی شہریت چھوڑنے سے متعلق دستاویزات بینچ کے سامنے پیش کیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ان دستاویز میں کہیں پر بھی متعلقہ محکمے کی مہر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا دیکھائی دیتا ہے کہ جیسے ان دستاویز کو کمپیوٹر سے نکال کر عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان دستاویزات میں ڈکلیریشن منسلک ہونے کا ذکر ہے لیکن وہ ڈکلیریشن بھی نہیں دیا گیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ان دستاویزات کی اہمیت ایک کاغذ کے پُرزے سے زیادہ نہیں ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ رحمان ملک کی جانب سے پہلے یہ بیان آیا کہ انہوں نے پچیس مارچ سنہ دوہزار آٹھ کو برطانوی شہریت چھوڑنے کے لیے دستاویزات جمع کروا دی ہیں پھر اس کے بعد کہا گیا کہ وہ پچیس اپریل سنہ دو ہزار آٹھ کو برطانوی شہریت سے دستبردار ہوگئے ہیں۔

اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ارکان پارلیمان کی دوہری رکنیت سے متعلق وزارت قانون سے کہا تھا لیکن ابھی تک وہاں سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کچھ صوبائی اسمبلیوں کی جانب سے جوابات آئے ہیں تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان جوابات میں دوہری شہریت رکھنے والوں سے متعلق کیا موقف اختیار کیا گیا ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جس طرح اعلی عدالتوں کے ججز کے خلاف کارروائی کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل موجود ہے اسی طرح دوہری شہریت رکھنے والے ارکان پارلیمان سے متعلق بھی کارروائی بھی مجاز ادارے کو کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ سزا یافتہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے چند روز قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ آئین میں دوہری شہریت رکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ عدالت کو اس معاملے کو فوری طور پر نمٹانے کی ضرورت نہیں ہے اور عدالت بڑی احتیاط سے اس معاملے میں آگے بڑھ رہی ہے۔

عدالت نے حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے دو ارکان قومی اسمبلی چوہدری افتخار نذیر اور چوہدری زاہد اقبال کی دوہری شہریت سے متعلق بھی حتمی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت چار جون تک کے لیے ملتوی کرد ی۔

اسی بارے میں