شدت پسندوں کیخلاف مؤثر اقدامات کریں: چین

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

چین نے پاکستان سے دوبارہ کہا ہے کہ وہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے میں مبینہ طور پر موجود شدت پسند تنظیم ایسٹ ترکمان اسلامک موومنٹ کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے مزید موثر اِقدامات کرے۔

چین کے وزیر خارجہ چینگ جوپنگ نے اس بات کا اظہار پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران کیا ہے۔

چین کے حکام کا کہنا ہے کہ اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد چین کے مسلمانوں کی اکثریت والے صوبے سنکیانگ میں اپنا اثرو رسوخ بڑھا رہے ہیں جو اُن کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکارنے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ چینی حکام نے اس معاملے کو حالیہ دورے میں صدر آصف علی زرداری اور دیگر اعلٰی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران اُٹھایا تھا۔ اس ملاقات میں سیکرٹری داخلہ کو بھی طلب کیا گیا تھا۔

چینی حکام کا کہنا تھا کہ اس کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد زیادہ تر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں جہاں سے وہ تربیت حاصل کرنے کے بعد پاکستان کی سرحد کے ساتھ والے چینی علاقے میں داخل ہو رہے ہیں۔

چین میں ہونے والی ایشیائی کھیلوں میں بھی اسی تنظیم کی طرف سے ممکنہ حملوں سے متعلق خبردار کیا گیا تھا۔

پاکستانی حکام نے چینی حکام کو تمام ممکنہ اقدامات کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے اور اس ضمن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے اس شدت پسند تنظیم کے خلاف کارروائی کی ہدایات جاری کی ہیں۔

اس ضمن میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف فوج کے علاوہ نیم فوجی ملیشیا فرنٹئیر کور کے اہلکار بھی مصروف ہیں۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان کی سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قبائلی علاقوں سے چینی باشندوں سمیت کچھ غیر ملکی باشندوں کو گرفتار کرکے اُنہیں چینی حکام کے حوالے بھی کیا تھا۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق اعلٰی حکام کی طرف سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وسطی ایشیا کی ریاستوں جن میں ترکمانستان، آزربائیجان، تاجکستان اور دیگر ریاستیں بھی شامل ہیں، حکام سے ایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ کے نیٹ ورک سے متعلق معلومات حاصل کی جائیں۔

سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ اس تنظیم سمیت اس علاقے میں کام کرنے والی دیگر شدت پسند تنظیموں کے کرتا دھرتا افراد کے کوائف بھی اکھٹے کیے جائیں۔

ایسٹ ترکمان اسلاملک موومنٹ اور دیگر کالعدم تنظیموں سے متعلق پاکستان اور چین کی مسلح افواج کے حکام بھی ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں۔ چینی افواج پاکستانی افواج کے افسران اور اہلکاروں کو شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے جدید خطوط پر تربیت بھی دے رہی ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز قبل پاکستان کے خفیہ اداروں کی طرف سے وزارت داخلہ کو رپورٹ بھجوائی تھی کہ افغانستان کے راستے کالعدم اور شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پہنچے ہیں جہاں پر وہ القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان اور دیگر ہم خیال کالعدم تنظیموں کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں