مہنگائی میں کچھ کمی ہوئی ہے: وزیر خزانہ

کراچی سٹاک ایکسچینج تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’پاکستان میں ٹیکس اکٹھا کرنا مشکل ترین کام ہے اور گزشتہ برس کی نسبت رواں سال دس ماہ میں پچیس فیصد زائد ٹیکس وصول کی ہے جو پاکستان کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے‘

وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے تیس جون کو ختم ہونے والے رواں مالی سال کا اقتصادی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ برس کی نسبت شرح نمو اور قرضہ جات میں اضافہ ہوا جبکہ مہنگائی میں کچھ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

جمعرات کو پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس خام ملکی پیداوار یا جی ڈی پی کی شرح تین فیصد تھی جو رواں سال تین اعشاریہ سات فیصد رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مہنگائی کی شرح رواں سال دس اعشاریہ آٹھ فیصد رہی جوکہ گزشتہ برس تیرہ اعشاریہ آٹھ فیصد تھی اور یوں گزشتہ برس کی نسبت رواں برس مہنگائی کی شرح میں تین فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق حکومت نے رواں سال کی سب سے بڑی کامیابی محصولات کی آمدن میں اضافہ کرنا بتایا ہے جو کہ دس ماہ میں ساڑھے چودہ سو ارب بتائی گئی ہے اور امید ظاہر کی گئی ہے کہ جون میں یہ وصولی انیس سو ارب سے زائد ہوسکتی ہے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ پاکستان میں ٹیکس اکٹھا کرنا مشکل ترین کام ہے اور گزشتہ برس کی نسبت رواں سال دس ماہ میں پچیس فیصد زائد ٹیکس وصول کیا ہے جو پاکستان کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹیکسٹائل، چمڑے اور قالین سمیت دیگر صنعتوں پر جو ٹیکس کے دائرے سے باہر تھیں ان پر ٹیکس عائد کر کے آمدن بڑھائی ہے۔

عبدالحفیظ شیخ نے بتایا کہ کل محصولاتی آمدن کا ساڑھے ستاون فیصد صوبوں کو دیا جاتا ہے جبکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا کے اخراجات ملائیں تو مرکز کو تیس فیصد بچتا ہے جس میں سے دفاع، قرضوں کی ادائیگی اور وفاقی حکومت کے اخراجات پورے کرنے ہوتے ہیں۔ ان کے بقول حکومت نے رواں مالی سال میں گزشتہ سال کی نسبت اپنے اخراجات میں دس فیصد کمی کی ہے۔

قرضہ جات

وزیر خزانہ نے بتایا کہ مالی سال سنہ دو ہزار گیارہ اور بارہ کے دوران جولائی سے مارچ تک سرکاری قرضوں کی کل مالیت میں تیرہ سو پندرہ ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ مارچ سنہ دو ہزار تک سرکاری قرضے ملکی پیداوار یعنی جی ڈی پی کا اٹھاون اعشاریہ دو فیصد تھے جبکہ گزشتہ برس اس عرصے میں یہ شرح ساڑھے پچپن فیصد تھی۔

رواں سال مارچ کے آخر تک کل داخلی قرضہ جات میں گیارہ سو نوے ارب پچاس کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔

اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان کے کل غیر ملکی قرضہ جات و ادائیگی کا حجم ساٹھ اعشاریہ تین ارب ڈالر تھا۔ رواں سال جولائی تا مارچ حکومت نے سترہ کروڑ نوّے لاکھ ڈالر کا بیرونی قرضہ حاصل کیا۔

زراعت

مجموعی طور پر زراعت کے شعبے میں تین اعشاریہ ایک فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ گزشتہ برس دو اعشاریہ چار فیصد تھا۔ کپاس کی پیداوار میں ساڑھے اٹھارہ فیصد سے زائد اضافہ ہوا جبکہ گندم کی پیداوار میں پونے سات فیصد کمی ہوئی۔ دال مونگ، چاول، گنے اور مکئی کی پیداوار میں اضافہ جبکہ چنے مرچ، پیاز اور دال مسور کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔

سندھ اور بلوچستان میں سیلاب سے بڑی تباہی ہوئی اور زراعت، گلہ بانی اور ماہی پروری کے شعبے میں ایک سو ساٹھ ارب روپے کا نقصان ہوا۔ جبکہ سیلاب اور بارشوں سے ہونے والی تباہ کاریوں کی بحالی پر دو سو چالیس ارب روپے کا تخمیہ ہے۔

تعلیم اور صحت

پاکستان میں دس سال سے بڑی عمر کے لوگوں میں شرح خواندگی اٹھاون فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین میں شرح خواندہی کم رہی۔ پنجاب میں شرح خواندگی ساٹھ فیصد، سندھ انسٹھ، خیبر پختونخوا پچاس اور بلوچستان میں اکتالیس فیصد رہی۔ ملکی سطح پر تعلیمی اندارج تین کروڑ نناوے لاکھ ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ برس کی نسبت چار اعشاریہ چار فیصد زیادہ ہے۔

صحت کے میدان میں ڈاکٹروں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے قریب، دندان ساز گیارہ ہزار کے قریب، نرسوں کی تعداد چھتر ہزار اور سرکاری ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد ایک لاکھ آٹھ ہزار کے قریب ہے۔ یعنی بارہ سو چھ افراد کے لیے ایک ڈاکٹر، سول ہزار چار سو سے زائد لوگوں کے لیے ایک دندان ساز اور پونے سترہ سو لوگوں کے لیے ایک نرس ہے۔

آبادی، افرادی قوت اور روزگار

پاکستان میں آبادی کا تخمینہ اٹھارہ کروڑ سے زائد لگایا گیا ہے۔ آبادی میں اضافے کی شرح دو فیصد سے زائد رہی ہے۔ شہری آبادی میں اضافہ ہوا ہے اور وہ پونے سات کروڑ سے زائد ہے۔

پاکستان میں بے روزگاری کی شرح چھ فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ ماضی کی نسبت بڑھی ہے۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں میں بے روزگار افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں بے روزگاری کی شرح میں کمی ہوئی اور ان کی تعداد پانچ لاکھ تیس ہزار ہے۔

موبائل فون، انٹرنیٹ اور الیکٹرانک میڈیا

پاکستان میں موبائل فون کا استعمال بڑھ گیا ہے اور روایتی فون کا استعمال دو فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے۔ رواں سال مارچ تک موبائل فون کے صارفین کی تعداد گیارہ کروڑ تراسی لاکھ ہوگئی ہے جوکہ گزشتہ برس پونے گیارہ کروڑ کے قریب تھی۔ پاکستان میں براڈ بینڈ کی انیس لاکھ صارفین کو سہولت حاصل ہے۔ ٹیلی کام کے شعبے میں سرمایہ کاری پچاس کروڑ ڈالر سے کم رہی لیکن آمدن چار ارب ڈالر کے قریب رہی۔

پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا میں مجموعی سرمایہ کاری تقریباً ڈھائی ارب ڈالر کی ہوئی ہے۔ دو لاکھ لوگوں کو قابلیت اور ستر لاکھ لوگوں کو بالواسطہ روزگار کے مواقع ملے۔ ریڈیو پاکستان سے گیارہ زبانوں میں روزانہ آٹھ گھنٹے نشریات ہوتی ہے۔

اسی بارے میں