ترقیاتی پروگرام کے لیے 873 ارب مختص

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بجلی کی قیمتوں میں سبسڈی کی مد میں ایک سو چونتیس ارب روپے رکھے گئے ہیں

وفاقی حکومت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت آئندہ مالی سال کے دوران تینتیس وزارتوں اور مختلف کارپوریشنز کے لیے آٹھ سو تہتر ارب روپے مختص کیے ہیں۔

ان میں سے وفاق کے لیے تین سو سات ارب روپے ہیں جبکہ تین سو چھیاسٹھ ارب روپے صوبوں میں تقسیم کیے جائیں گے۔

وفاق کے لیے مختص کیے گئے ترقیاتی پروگرام کے تحت وفاقی حکومت کے ماتحت وزارتوں میں شروع ہونے والے ترقیاتی منصوبے بھی شامل ہیں۔

ان منصوبوں میں وزارت پانی وبجلی ، وزارت داخلہ ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر وزارتوں کے تحت مختلف علاقوں میں شروع کیے گئے منصوبے بھی شامل ہیں۔

وزرات پانی و بجلی کے تحت ملک کی مختلف علاقوں میں پن بجلی گھروں کے منصوبوں اور چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے لیے دو ہزار سات سو ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

ان میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شروع کیے گئے چھوٹے ڈیم بھی شامل ہیں۔ دیامیر بھاشا ڈیم کے منصوبے کے لیے چھ ہزار ملین روپے جبکہ چشمہ نیوکلئیر پاور منصوبے کے لیے تین ہزار چار سو ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں زمین کی خریداری کی مد میں بھی سات ہزار سات سو پچاسی ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ اس بجٹ میں بجلی کی قیمتوں میں سبسڈی کی مد میں ایک سو چونتیس ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

Image caption سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو پچاس ارب روپے سے بڑھا کر ستر ارب روپے کر دیا گیا ہے اور حکومت کے بقول اس پروگرام سے پینتیس لاکھ خاندان مستفید ہوئے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت پیشہ وارانہ تربیتی پروگرام کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ملک میں آنے والے حالیہ سیلاب سے تباہ ہونے والی سڑکوں کی مرمت اور نئی سڑکوں کی تعمیر کے لیے پانچ ہزار سات سو ستائیس ملین روپے رکھے گئے ہیں تاہم اس بار سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔

ایف آئی اے یعنی وفاقی تحقیقاتی ادارے اور اسلام آباد پولیس کو جدید اسلحے سے لیس کرنے اور ان اداروں کے اہلکاروں کو جدید خطوط پر تربیت دینے سے متعلق بھی منصوبے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت شامل ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو ’سیف سٹی‘ بنانے کے لیے دو ہزار سات سو ملین روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ گُزشتہ برس بھی اس منصوبے کے تحت رقم مختص کی گئی تھی اس کے علاوہ چین کے ایک بینک نے چین سے جدید سازوسامان خریدنے کے لیے قرضہ دینے کی بھی پیشکش کی تھی۔

پارلیمنٹ ہاؤس کی سکیورٹی کے لیے بھی تریسٹھ ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ کی عمارت کی تزئین و آرائئش اور انصاف تک رسائی پروگرام کے تحت آئندہ مالی سال کے لیے بارہ سو ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی ڈویژن کے تحت ملازمت کرنے والی خواتین کے لیے رہائش کا بندوبست کرنے اور نئی عمارتوں کی تعمیر کے لیے ایک سو چھبیس ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

اسی بارے میں