شکیل آفریدی کی سزا کے خلاف اپیل دائر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو قبائلی علاقوں کے قانون ایف سی آر کے تحت سنائی گئی تینتیس سال کی سزا کے خلاف جمعہ کو کمشنر پشاور ڈویژن کی عدالت میں اپیل دائر کر دی گئی ۔

یہ اپیل شکیل آفریدی کے بھائی جمیل آفریدی کی جانب سے جمع کرائی گئی، اس موقع پر ان کے ہمراہ امن تحریک کے عہدیدار اور وکلا موجود تھے۔

شکیل آفریدی کے وکیل سمیع اللہ آفریدی نے بی بی سی کو ٹیلیفون پر بتایا کہ انھوں نے کمشنر پشاور ڈویژن کی عدالت میں شکیل آفریدی کی جانب سے ان کے بھائی جمیل آفریدی کے توسط سے اپیل دائر کی ہے جس میں انھوں نے مختلف نکات اٹھائے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ اسسٹسنٹ پولیٹکل ایجنٹ سات سال سے زیادہ کی سزا کا اختیار نہیں رکھتا۔ جبکہ شکیل آفریدی کو تینتیس سال کی سزا سنائی گئی ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔

سمیع اللہ آفریدی نے مذید بتایا کہ اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کی عدالت میں شکیل آفریدی کو دفاع کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا گیا اور نہ ہی انھیں یہ اختیار دیا گیا کہ وہ کوئی وکیل مقرر کر سکتے اس لیے یہ سزا آئین کے خلاف ہے ۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کے مطابق ہر شہری کو اپنے دفاع کا اختیار حاصل ہے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کو تیئس مئی کو تینیس سال کی سزا سنائی گئی تھی اور ابتدا میں یہی کہا جاتا رہا ہے کہ انھیں امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزا سنائی گئی ہے لیکن ایک ہفتے کے بعد پولیٹکل انتظامیہ کی جانب سے تفصیلی فیصلہ جاری ہونے کے بعد یہ کہا گیا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے کالعدم تنظیم لشکر اسلام کے ساتھ روابط تھے اور وہ تنظیم کو فنڈز فراہم کرتے تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لشکر اسلام کے ترجمان نے اس بات کی تردید کی کہ شکیل آفریدی کے ان کے ساتھ روابط تھے لیکن عوامی شکایات پر انہوں نے شکیل آفریدی کو گرفتار کیا تھا اور انہیں دو لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر کے رہا کر دیا گیا تھا۔

سمیع اللہ آفریدی کے مطابق وہ اس سزا کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں کیونکہ کوئی ایسے شواہد یا ثبوت پیش نہیں کیے گئے جس سے ثابت ہو کہ ڈاکٹر شکیل افریدی کے لشکر اسلام کے ساتھ روابط تھے۔

انھوں نے کہا کہ جس رقم کا فیصلے میں ذکر ہے وہ غلط ہے کیونکہ شکیل آفریدی کی رہائی کے لیے جرمانے کے طور پر انھوں نے دس لاکھ روپے جمع کرائے تھے۔

شکیل آفریدی کے بارے میں یہ اطلاعات ہیں کہ انھیں سینٹرل جیل پشاور سے اٹک جیل منتقل کیا جا رہا ہے لیکن سرکاری سطح پر اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

سمیع اللہ آفریدی کے مطابق انھیں اور ان کے بھائی کو بھی پشاور جیل میں شکیل آفریدی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی اور اس کے لیے انھوں نے انسپکٹرجنرل جیل خانہ جات اور سینٹرل جیل کے حکام سے بارہا رابطے کی کوشش کی تاہم انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

اسی بارے میں