میرعلی میں ڈرون حملہ، پندرہ افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Northrop Grumman

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں کم سے کم پندرہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ حملہ تحصیل میر علی سے تین کلومیٹر دور جنوب کی جانب واقع گاؤں عیسو خیل میں کیا گیا جہاں حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ایک مکان اور وہاں آنے والے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے حکام نے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر غیر ملکی تھے۔

واضح رہے کہ عیسو خیل میں دو ہفتوں کے دوران ہونے والا یہ تیسرا ڈرون حملہ ہے۔ اس سے قبل ہونے والے دو حملوں میں بھی غیرملکی ہلاک ہوئے تھے۔

اس سے پہلے اٹھائیس مئی کو بھی اسی علاقے میں ہونے والے دو ڈرون حملوں میں چھ غیر ملکی جنگجوؤں سمیت دس افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ چوبیس مئی کو اسی گاؤں پر ڈرون حملے میں آٹھ غیر ملکی ہلاک ہو گئے تھے جن کا تعلق ترکمانستان سے بتایا گیا تھا۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملے گزشتہ کئی سال سے جاری ہیں۔ ان حملوں میں پاک امریکہ تعلقات کے دوران کمی یا وقتی تعطل آتا ہے تاہم یہ یہ حملے مکمل طور پر کبھی بند نہیں ہوئے۔

گزشتہ سال نومبر میں سلالہ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر نیٹو کے فضائی حملے کے بعد ان ڈرون حملوں میں تعطل آیا تھا تاہم کچھ عرصے کے بعد حملوں کا آغاز دوبارہ ہو گیا۔

امریکی شہر شکاگو میں نیٹو کانفرس کے بعد سے ان ڈرون حملوں میں شدت آئی ہے، کانفرس میں شریک پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے ڈرون حملوں کا معاملہ ایک بار پھر امریکی حکام کے سامنے اٹھایا تھا۔

کانفرنس کے دوران امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن سے ملاقات میں صدر زرداری نے کہا تھا کہ پاکستان ڈرون حملوں کا مستقل حل چاہتا ہے۔ تاہم امریکی حکام کا موقف رہا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں ڈرون حملے ایک موثر ہتھیار ثابت ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں