پنجاب حکومت کی لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج کی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پنجاب حکومت نے اشتہار کے ذریعے یہ الزام بھی لگایا کہ جانبدارنہ لوڈشیڈنگ سے پنجاب بھر میں نظام زندگی درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے۔

پنجاب حکومت کی طرف سے قومی اخبارات میں ایک ایسا نرالہ اشتہار شائع ہوا ہے جس میں صوبے کے لوگوں سے بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پر پُرامن احتجاج کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

اتوار کو شائع ہونے والے اس اشتہار میں کہا گیا کہ ’حکومت پنجاب بجلی کی اذیت ناک لوڈشیڈنگ سے تنگ عوام کے پرامن احتجاج کا دل وجان سے ساتھ دیتی ہے۔‘

اشتہار میں کہاگیا کہ ’وفاقی حکومت کی جانب سے پنجاب کے لیے اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق اشتہار میں صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت پر یہ الزام لگایا کہ ’پنجاب میں بجلی کی طویل بندش وفاقی کی حکومت ان معاہدوں کی کھلی خلاف وزری ہے جس کے تحت تمام صوبوں میں ایک جیسی لوڈشیڈنگ کی جانی تھی۔‘

پنجاب حکومت نے اشتہار کے ذریعے یہ الزام بھی لگایا کہ جانبدارنہ لوڈشیڈنگ سے پنجاب بھر میں نظام زندگی درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے۔

سرکاری اشتہار میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ لوڈشیڈنگ پر عوام جائیں تو کدھر جائیں؟

اشتہار میں یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ حکومت پنجاب بجلی کی اذیت ناک لوڈشیڈنگ سے تنگ عوام کے پرامن احتجاج کا دل وجان سے ساتھ دیتی ہے۔

اشتہار میں احتجاج کرنے والے یہ اپیل بھی کی گئی کہ وہ اپنے حق کی آواز ضرور اٹھائیں تاہم احتجاج کے دوران پرامن پنجاب کا تشخص برقرار رکھیں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے مکمل گریز کریں۔

مسلم لیگ نون کے سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہد اللہ خان نے قومی اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہار کا دفاع کیا اور کہا کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری جمہوری حق ہے اور اس اشتہار میں یہ کہا گیا کہ شہری اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے پرامن رہیں اور کسی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں۔

دوسری طرف پیپلز پارٹی پنجاب نے اس اشتہار پر کڑی نکتہ چینی اور الزام لگایا کہ وزیر اعلٰی پنجاب شہبازشریف سستی شہرت حاصل کرنے اور سیاسی دکانداری چمکانے کے لیے اس طرح کے اشتہار شائع کرارہے ہیں۔

پیپلز پارٹی رہنما اور پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر شوکت بسرا نے کہا کہ شہباز شریف کا یہ اقدام بغاوت کے مترداف ہے۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ’ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ایک صوبائی حکومت وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج کرے۔‘

شوکت بسرا نے کہا اگر پنجاب حکومت اس مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو وزیر اعلٰی شہباز شریف احتجاجی مظاہروں میں شامل ہونے کے بجائے صوبائی بجٹ میں بجلی کے منصوبوں کے لیے رقم مختص کریں۔

پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا ہے کہ احتجاج کے لیے صوبائی حکومت کے اخبارات کو اشتہارات دینا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے برابر ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے وفاقی حکومت کے خلاف اس طرح اشتہار کی اشاعت کوئی اچھی روایت نہیں ہے۔ سیاسی مبصر ڈاکٹر حسن عکسری رضوی کے بقول ایسے اشتہار سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ تلخیاں بڑھیں گی۔

ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف پرامن احتجاج کا جو اشتہار دیا گیا ہے اس سے پنجاب حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

ڈاکٹر حسن عکسری نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے وفاق کو نقصان پہنچے گا بلکہ جمہوری عمل بھی متاثر ہوگا۔

اسی بارے میں