محمد علی جناح کا اہم خطاب خفیہ رکھا گیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نظریہِ پاکستان کے بارے میں اہم رہنمائی جناح کی تقریروں سے ملتی ہے

پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے آل انڈیا ریڈیو کو سیکیولزم کے حوالے سے بانیِ پاکستان محمد علی جناح کے ایک اہم خطاب کی ریکارڈنگ حاصل کرنے کی درخواست کی ہے۔

ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل مرتضیٰ سولنگی نے آل انڈیا ریڈیو کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے محمد علی جناح کے خطاب کی ریکارڈنگ کو حاصل کرنے کی درخواست کی ہے۔

محمد علی جناح نے قیام ِپاکستان سے تین دن قبل گیارہ اگست سنہ انیس سو سینتالیس کو کراچی میں ایک خطاب کیا تھا اور مستقبل کے سیکیولر پاکستان کا ذکر کیا تھا۔

نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق مرتضیٰ سولنگی کا خیال ہے کہ اس خطاب کی ریکارڈنگ آل انڈیا ریڈیو کے پاس ہے۔

اس خطاب میں محمد علی جناح نے کہا تھا کہ مستقبل کے پاکستان میں مذہب، نسل اور زبان کو ترجیح دیے بغیر تمام افراد کے پاس برابر کے حقوق ہوں گے اور نئے ملک میں ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔

مرتضیٰ سولنگی کے مطابق ایک ہفتے قبل انہوں نے آل انڈیا ریڈیو کے سربراہ سے فون پر بات کی تھی اور انہیں بتایا تھا کہ وہ اس ریکارڈنگ کی تلاش میں ہیں۔ .

دوسری جانب آل انڈیا ریڈیو کے اعلٰی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں ابھی تک پاکستان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی خط نہیں ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے بھی پاکستان کی جانب سے ایسی ہی ایک درخواست کی گئی تھی، لیکن وہ ابھی تک محمد علی جناح کے اس خطاب کی ریکارڈنگ تلاش نہیں کر پائے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ محمد علی جناح نے ایسی کوئی تقریر نہیں کی کیونکہ اس کی کوئی ریکارڈنگ موجود نہیں ہے۔ محمد علی جناح کے اس خطاب پر دائیں بازو کی تنظیمیں سوال اٹھاتی رہی ہیں۔

اس خطاب کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے مرتضیٰ سولنگی نے کہا ’اس خطاب کی کاپی کو کئی سالوں تک خفیہ رکھا جاتا رہا یا مزید عام نہیں کیا گیا۔ یہ ایک بے حد اہم خطاب ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ جس طرح سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہو رہے ہیں، ایسے ماحول میں اس خطاب کے ملنے اور پاکستان پہنچنے سے تعلقات بہتر ہی ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر یہ خطاب ملتا ہے تو ایسی سیاسی طاقتیں جو پاکستان کو ایک جمہوری ملک بنانا چاہتی ہیں، اس کے ہاتھوں میں ایک بڑا ہتھیار آ جائے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ اس وقت آل انڈیا ریڈیو کے سٹیشن دو طرح کے ہوتے تھے۔ ایک طرح کے سٹیشنز کو کلاس اے سٹیشن کہا جاتا تھا، اور دوسروں کو کلاس بی سٹیشن کہا جاتا تھا۔ کلاس بی سٹیشنز کے پاس ریکارڈنگ کی سہولت نہیں تھی جس میں کراچی، لاہور اور پشاور شامل تھے۔

مرتضی سولنگی کہتے ہیں کہ انہیں امید تھی کہ اس خطاب کی ریکارڈنگ بی بی سی کے پاس ہوگی، لیکن بی بی سی کی جانب سے انہیں بتایا گیا کہ یہ ریکارڈنگ ان کے پاس نہیں ہے۔

اسی بارے میں