’سیلاب آئےگا سب کچھ دوبارہ بہہ جائے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کچھ خواتین مٹی کے ڈھیلوں کو توڑ کر دوبارہ آشیانہ بنانے کی جستجو میں ہیں، ان کچے مکانوں کی تعمیر میں انہیں تین ماہ کا عرصہ لگ چکا ہے اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ بارشوں کے دن بھی قریب آ رہے ہیں۔

ان خواتین کا تعلق گھرام چانڈیو گاؤں سے ہے، جو پنگریو شہر سے تقریباً دس کلومیٹر دور ہے، یہ علاقہ دس ماہ پہلے سمندر کا منظر پیش کر رہا تھا۔

گھر کی تعمیر میں مصروف مسمات نور بانو کہتی ہیں کہ مرد انہیں مشقّت سے روکتے ہیں۔

’مرد کہتے ہیں کہ تم سارا دن مٹی کے ڈھیلوں کو توڑتی ہو، بچوں کو رلاتی ہو یہ تکلیف اٹھاتی ہو، کیوں ایسا کر رہی ہو؟ سیلاب آئےگا یہ سب کچھ دوبارہ بہہ جائے گا۔‘

نور بانو اپنے بچوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’ان کو کہاں بٹھائیں اس قدر گرمی میں، کوئی جگہ ہے؟ ان کے لیے پانی کی ایک مٹکی چھاؤں میں رکھیں ایسی جگہ تک نہیں۔ جو سایہ دار درخت تھے وہ بھی سیلاب کی وجہ سے سوکھ گئے۔‘

گزشتہ سال اسی گاؤں سے پاکستان فوج نے احمد خان چانڈیو ان کی بیگم مسمات بھاگل اور ان کے دو بچوں کو ریسکیو کیا تھا۔

احمد خان ٹی بی اور ان کی بیوی مسمات بھاگل دمے کے مرض میں مبتلا تھیں، بے گھر ہونے کے بعد کیمپوں میں دُشوار زندگی، ناقص غذا اور دیگر مسائل نے مسمات بھاگل کے بیماری میں اضافہ کردیا اور وہ انتقال کر گئیں۔

احمد خان چانڈیو اب اپنے سات اور نو سال کے بیٹوں کے ساتھ زندگی گذار رہے ہیں۔ وہ اپنی غربت کو بیوی کی موت کی وجہ قرار دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

’اگر پیسے نہیں ہوتے تھے تو بھاگل تکلیف میں کراہتی رہتی تھیں، میرے ہاتھ پاؤں کام نہیں کرتے تھے، دو بچے کام کرتے ہیں انہیں پانچ چھ سو رپے تنخواہ ملتی ہے ہم دو دو روز فاقہ کشی میں گذارتے تھے کہ چلو اس کی دوائی کراتے ہیں، یہ سلسلہ چلتا رہا مگر جب اللہ کا حکم ہوا تو دیر ہی نہیں لگی۔‘

گزشتہ سال شدید بارشوں سے سندھ میں نوے لاکھ کے قریب لوگ متاثر ہوئے، جن میں سے کئی خاندان ایک بڑے عرصے تک کیمپوں اور بعد میں روڈ رستوں پر پانی اترنے کا انتظار کرتے رہے۔

بارشوں اور سیلاب میں سب سے زیادہ بدین ضلعے کی یونین کاؤنسل پنگریو متاثر ہوئی تھی، اس علاقے میں لوگ ابھی تک خیموں میں زندگی گذار رہے ہیں۔ گزشتہ سال کے برعکس ان متاثرین کی گھروں کی تعمیر کے حوالے سے کسی ادارے نے مدد نہیں کی۔

علی بخش تین ماہ قبل اپنے گاؤں لوٹے جو مٹی کا ڈہیر بن چکا تھا، کیمپ سے بیدخل ہونے کے بعد وہ گاؤں کے قریب سڑک پر خیمے لگاکر بیٹھے رہے اور بعد میں کچھ زمین خشک ہونے کے بعد اپنے گھروں کے میدان پر خیمے لگاکر آباد ہوئے۔

شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ کئی علاقوں سے پانی کی نکاسی ہوچکی ہے مگر اب بھی بعض علاقے زیر آب ہیں اور کئی ایکڑ زرعی زمین جھیل منظر پیش کر رہی ہے۔

پرائمری ٹیچر شیر محمد بھی متاثرین میں شامل ہیں، ان کی زمین پر اس وقت بھی کئی فٹ پانی موجود تھا، بقول ان کے اگست کا فصل گیا، اس کے بعد خریف کے فصل کی کاشت نہیں کرسکے، اب تیسرے فصل سے بھی محروم ہوگئے ہیں۔

قومی ڈزاسٹر مئنجمینٹ اتھارٹی نے متنبہ کیا ہے کہ جولائی اور اگست میں شدید بارشوں کا امکان ہے، جس سے سندھ کے نشیبی اضلاع سمیت انتیس اضلاع کے لوگ متاثر ہوں گے۔

صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے ایک رقم مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ این ڈی ایم اے کے چیئرمین ظفر اقبال قادر کا کہنا ہے کہ پچھلے دو سالوں کی بارشوں سے انہوں نے سبق سیکھا ہے۔

’اس سے پہلے اس قسم کی آفات سے نمٹنے کے لیے پالیسی نہیں ہوا کرتی تھی، جتنے بھی شراکت دار ہیں ان کے مشورے سے ہر صوبے اور ہر ضلع کی پالیسی بنائی ہے اگر کوئی آفات آتی ہے تو کسی طرح وارننگ جاری ہوگی ، کیسے او کہاں لوگوں کا انتظام کیا جائے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

قومی ڈزاسٹر مئنیجمنٹ اتھارٹی کے دعوے اپنی جگہ مگر صرف بدین ضلعے میں کئی سیم نالوں کی صفائی نہیں ہوسکی ہے، اور حکومت کو بارش کے پانی کے قدرتی گذر گاہوں سے تجاویزات ہٹانے میں بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

ایل بی اوڈی سیم نالے جس کو شگاف کے باعث سانگھڑ، میرپورخاص اور بدین اضلاع متاثر ہوئے تھے کی مرمت نہ ہونے کی شکایت عام ہیں۔ قومی ڈزاسٹر مئنجمینٹ اتھارٹی کے چیئرمین ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ اگر معمول کی بارشیں ہوئیں تو صورتحال قابو میں رہے گی۔

گزشتہ شدید بارشوں میں لوگوں کے پاس سر چھپانے کی جگہ موجود تھی، سڑکیں بھی بہتر حالت میں تھیں اور سیم نالوں نے کچھ قدر پانی کا زور برداشت کرلیا تھا مگر آنے والی بارشوں کے وقت سب کچھ اس کے برعکس نظر آتا ہے۔

اسی بارے میں