بجٹ پر بحث، حزب اختلاف کی نعرہ بازی

تصویر کے کاپی رائٹ other

پاکستان کی قومی اسمبلی میں منگل کی شام بجٹ پر بحث کے دوران حزب مخالف کی جماعت مسلم لیگ (ن) نے شدید نعرہ بازی کی اور کارروائی میں خلل ڈالا۔

پاکستان کے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اجلاس منگل کی شام کو علیحدہ علیحدہ منعقد ہوئے۔

مسلم لیگ (ن) نے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں تو بجٹ پر بحث میں حصہ لیا لیکن قومی اسمبلی میں سخت نعرہ بازی کی۔

قومی اسمبلی میں گزشتہ روز پیر کو احسن اقبال نے بجٹ پر بحث کا آغاز کیا تھا لیکن منگل کو بحث کے بجائے احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔

سینیٹ کا اجلاس جیسے ہی شروع ہوا تو پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ دوہری شہریت کے معاملے پر آئین اور قوانین میں ابہام ہے اور اس معاملے پر وزیر قانون یا اٹارنی جنرل کو بریفنگ کے لیے ایوان میں بلایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر دوہری شہریت والا شخص پارلیمان کا رکن نہیں بن سکتا تو الیکشن کمیشن نے ان کے کاغذات نامزدگی قبول کیوں کیے؟

ان کے بقول کسی کی رکنیت معطل کرنے یا نا اہل قرار دینے کا اختیار آئین کے مطابق سپریم کورٹ کو حاصل نہیں ہے اور الیکشن کمیشن ہو یا ماتحت عدلیہ سب کا کام سپریم کورٹ کیسے کر رہی ہے؟

قائم مقام چیئرمین سینیٹ صابر بلوچ نے حکومت سے کہا کہ اٹارنی جنرل کو ایوان میں بلایا جائے۔ ایوان میں منگل کو کارروائی مکمل ہوگئی لیکن اٹارنی جنرل نہیں پہنچ سکے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس سوا گھنٹے سے بھی زائد تاخیر سے شروع ہوا اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور مشیر داخلہ رحمٰن ملک اکٹھے ایوان میں داخل ہوئے۔

وزیراعظم کو توہین عدالت کیس میں ملنے والی تیس سیکنڈ کی علامتی سزا کے بعد اپوزیشن کہتی ہے کہ وہ قانونی وزیراعظم نہیں رہے۔ جبکہ رحمٰن ملک کی دوہری شہریت کی بنا پر سینیٹ کی رکنیت سپریم کورٹ نے معطل کر رکھی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اب وزیر داخلہ نہیں رہے بلکہ وزیراعظم نے انہیں مشیر داخلہ بنا دیا ہے۔

ایک موقع پر رحمٰن ملک کو ایوان میں بیٹھے دیکھ کر چیف وہپ سید خورشید احمد شاہ کو سیکرٹری قومی اسمبلی نے کہا کہ رحمن ملک کو مشیر بنانے کا نوٹیفکیشن انہیں نہیں ملا۔ جس کے بعد خورشید نے رحمٰن ملک سے بات کی اور وہ جلدی جلدی ایوان سے باہر گئے اور نوٹیفکیشن کی کاپی لے آئے اور سیکرٹری کے حوالے کر دی۔

قومی اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی میں اپنے کارکنوں کی ہلاکت کا الزام لیاری گینگ وار پر عائد کیا اور کہا کہ حکومت نے تاحال کسی قاتل کو گرفتار نہیں کیا۔ انہوں نے ایوان سے علامتی واک آؤٹ کیا لیکن سید خورشید شاہ اور نوید قمر انہیں فوری طور پر منا کر ایوان میں واپس لائے۔

اس کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈر فاروق ستار نے جیسے ہی بجٹ پر بحث کا آغاز کیا تو اچانک مسلم لیگ (ن) کے اراکین ’گو گیلانی گو گیلانی‘ کے نعرے لگاتے ہوئے ایوان میں داخل ہوئے۔

انہوں نے ’جعلی بجٹ نا منظور‘ اور ’ڈاکو راج نا منظور‘ جیسے نعرے لگائے اور اپنی نشستوں کے بجائے قائم مقام سپیکر فیصل کریم کنڈی کے سامنے جمع ہوئے اور نعرہ بازی کرتے رہے۔

ایک موقع پر انہوں نے’گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکہ اور دو‘ کا نعرہ لگایا تو مخدوم شہاب الدین نے کہا کہ حکومت کی دیوار بہت مضبوط ہے اور یہ نعروں اور دھکے سے نہیں گرے گی۔

اس دوران فاروق ستار نے تقریر نہیں کی اور بجٹ پر بحث کے لیے مخدوم شہباب الدین کو کہا گیا۔ ان کی تقریر کے دوران شدید نعرہ بازی ہوئی اور کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ لیکن وزیراعظم سمیت کئی اراکین ہیڈ فون لگا کر تقریر سنتے رہے۔

مسلم لیگ (ن) کے اراکین کا جارحانہ رویہ دیکھ کر حکمران پیپلز پارٹی کے کئی اراکین وزیراعظم کے گرد حفاظتی ڈھال بن کر کھڑے ہوگئے۔

قبل ازیں قومی اسمبلی کی بزنس ایڈوائیزری کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن کی مسلم لیگ (ن) نے شرکت نہیں کی۔

اجلاس میں طے پایا کہ پیر کے علاوہ باقی چار روز کے دوران صبح کے وقت اجلاس کی کارروائی چلائی جائے گی اور ایک ہفتے کی بحث کے بعد بجٹ کی منظوری کا عمل شروع کیا جائے گا۔

اسی بارے میں