چیف جسٹس کا اپنے بیٹے پر لگے’الزامات‘ کا ازخود نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ Other

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پاکستانی ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والی ان خبروں کا از خود نوٹس لیا ہے جن میں ان کے بیٹے پر ایک کاروباری شخصیت سے مبینہ طور پر کروڑوں روپے کا فائدہ حاصل کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت بدھ سے ہی شروع ہو رہی ہے اور نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بدھ کے روز ابتدائی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کرے گا۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار فقیر حسین کی جانب سے منگل کو رات گئے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کئی ٹی وی ٹاک شوز میں عدالتی عمل پر اثر انداز ہونے کے لیے کاروباری شخصیت ملک ریاض اور جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان افتخار کے درمیان کسی ’بزنس ڈیل‘ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق ٹاک شوز میں کہا گیا کہ ’ملک ریاض نے ڈاکٹر ارسلان کو تیس سے چالیس کروڑ روپے دیے اور ان کے غیر ملکی دوروں کو بھی سپانسر کیا‘۔

پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے خبروں کے مطابق ’یہ عنایات ڈاکٹر ارسلان پر اس لیے کی گئیں تاکہ ان کے والد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس افتخار چوہدری پر اثرانداز ہوکر ان کے دل میں ملک ریاض کے لیے نرم گوشہ پیدا کیا جا سکے۔ ایسا کرنے کا مقصد ملک ریاض کے خلاف سپریم کورٹ میں زیرِ التوا مقدمات میں حمایت حاصل کرنا تھا۔‘

پریس ریلیز کے مطابق چیف جسٹس نے ان خبروں کا نوٹس لیا ہے اور بدھ کو صبح ساڑھے نو بجے اس معاملے کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے بیٹے اور اٹارنی جنرل کے علاوہ پاکستان میں تعمیراتی شعبے کے کاروبار سے وابستہ شخصیت ملک ریاض کو بھی نوٹس جاری کیا ہے کہ وہ بدھ کو سماعت کے موقع پر عدالت میں پیش ہوں۔

ڈاکٹر ارسلان چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے سب سے بڑے بیٹے ہیں اور سرکاری ملازم تھے لیکن سنہ 2009 میں اپنے والد کی چیف جسٹس کے عہدے پر بحالی کے بعد اطلاعات کے مطابق انہوں نے نوکری سے استعفٰی دیدیا تھا۔

اسی بارے میں