سلالہ چوکی پر حملہ، کم از کم پندرہ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حملے میں شدت پسندوں نے راکٹ اور خود کار ہتھیاروں کا استعمال کیاجس سے چیک پوسٹ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں افغان سرحد کے اوپر سلالہ چوکی پر مسلح شدت پسندوں نے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک فوجی اہلکار سمیت پندرہ سے زیادہ شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

دریں اثناء کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

مہمند ایجنسی میں ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر اور منگل کی درمیانی رات مسلح شدت پسندوں نے سلالہ چیک پوسٹ پر اس وقت حملہ کر دیا جب چیک پوسٹ میں ایک درجن سے زیادہ اہلکار موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں شدت پسندوں نے راکٹ اور خود کار ہتھیاروں کا استعمال کیاجس سے چیک پوسٹ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

اہلکار کے مطابق حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں پندرہ سے زیادہ شدت پسند مارے گئے۔اہلکار کے مطابق حملہ آور افغانستان کی جانب سے آئے تھے جن کی تعداد ایک سو سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

نامہ نگار دلاورخان وزیر کے مطابق سلالہ چیک پوسٹ افغان سرحد کے قریب تحصیل بائیزئی کے پہاڑی علاقے میں واقع ہے جہاں شدت پسندوں کی سرگرمیاں مہمند ایجنسی کے دوسرے علاقوں کے نسب زیادہ بتائی جاتی ہیں۔

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حملے چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

انہوں نے اپنے ایک ساتھی کی ہلاکت اور دو کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

واضح رہے کہ سلالہ چیک پوسٹ اس وقت پوری دُنیا میں مشہور ہوگئی جب چھبیس نومبر سنہ دو ہزار گیارہ کو نیٹو کے ہیلی کاپٹرز اور جنگی طیاروں نے اس کو نشانہ بنایا تھا اور اس حملے میں چوبیس پاکستانی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں