پاکستان میں ڈرون حملوں پر اقوام متحدہ کی تشویش

نوی پلے تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’کسی بھی حالت میں شہریوں کو ہلاک یا زخمی کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے‘

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کی سربراہ نوی پِلے نے پاکستان کی سرزمین پر امریکی ڈرون حملوں کی تحقیقات کی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس طریقے سے یہ حملے کیے جا رہے ہیں اس سے بین الاقوامی قانون کے تحت سوالات جنم لے رہے ہیں۔

پاکستان میں حقائق جاننے کے چار روزہ مشن کے اختتام پر جمعرات کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران اُنہوں نے ڈرون حملوں پر عالمی تنظیم کے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ڈرون حملے جو سیاسی و عسکری نظام کی نگرانی میں نہیں کیے جاتے اُن کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے کہ ان حملوں میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔

حقانی نیٹ ورک پر صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے: پنیٹا

نوی پلے نے کہا کہ چونکہ یہ کارروائیاں بلا امتیاز کی جاتی ہیں اس لیے ان میں شہری ہلاکتوں کی تعداد کا تعین بھی مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا اسی لیے وہ ان ڈرون حملوں کی تحقیقات، متاثرین کے داد رسی اور اُنہیں معاوضوں کی ادائیگی یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیتی ہیں۔

انہوں نے حکومت (پاکستان) کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر معمولی حالات میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے نمائندہ خصوصی کو مدعو کرے تاکہ وہ بعض واقعات کی تحقیقات کر سکیں۔

نوی پلے نے کہا کہ اُن کے نزدیک کسی بھی حالت میں شہریوں کو ہلاک یا زخمی کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے پاک افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر بغیر ہوا باز کے پرواز کرنے والے طیاروں سے میزائل حملوں میں اضافہ کر رکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان میں ڈرون طیاروں کے حملوں کا سلسلہ دو ہزار چھ میں شروع ہوا تھا

بی بی سی کے دفاعی امور کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے امریکی خفیہ ادارے سی ائی اے کرواتی ہے جن کی کارروائیاں خفیہ ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی ملک کے ساتھ حالت جنگ میں نہیں ہے اس لیے بعض ناقدین کے مطابق یہ حملے غیر قانونی ہیں۔

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے ایک روز قبل ڈرون حملوں کو دفاعی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کا ملک پاکستانی حدود میں القاعدہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ بلا شبہ پاکستانی حکومت، سکیورٹی فورسز اور عوام کو شدت پسندی جیسے کٹھن چیلنجوں کا سامنا ہے لیکن ان کے خاتمے کی کوششوں کے دوران حقوقِ انسانی کی سنگین خلاف ورزیوں مثلاً ماورائے عدالت قتل، غیر اعلانیہ حراست اور لوگوں کی ’گمشدگیوں‘ کے الزامات اُن کے لیے انتہائی پریشان کن ہیں۔

پاکستان نے اسی ہفتے پیر کو اس ڈرون حملے کے بعد جس میں پندرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے باقاعدہ احتجاج کیا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اس حملے میں القاعدہ کے اہم رہنماءابو یحیٰ اللبی ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں