لاہور: ہسپتال میں آتشزدگی، سات بچے ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آگ ائرکنڈیشننگ یونٹ میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی

لاہور کے ایک ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد سات ہوگئی ہے جبکہ زخمیوں میں سے ایک بچے کی حالت تشویش ناک ہے۔

ادھر اس واقعے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی سات رکنی ٹیم نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

آتشزدگی کا یہ واقعہ جمعرات کی دوپہر سروسز ہسپتال میں اس وقت پیش آیا تھا جب شارٹ سرکٹ کے نتیجے میں نرسری میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

نامہ نگار عباد الحق کے مطابق ریسکیو 1122 کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جب آگ لگی اس وقت نرسری میں پچیس بچے موجود تھے جن میں سے آٹھ بری طرح جھلس گئے تھے۔

ان بچوں کو فوری طور پر علاج کے لیے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں منتقل کیا گیا جہاں جمعہ کی صبح تک سات بچے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

ہسپتال کی ایم ایس کا کہنا ہے کہ آئی سی یو میں داخل بچوں میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ اٹھارہ بچوں کو طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ آگ ائرکنڈیشننگ یونٹ میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی پھر اس یونٹ کے قریب پڑے گدے نے آگ پکڑ لی اور یوں یہ پورے کمرے میں پھیل گئی۔

ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے سروسز ہسپتال کے اسسٹنٹ میڈیکل سپرٹنڈنٹ نے ان الزامات سے انکار کیا کہ ہسپتال کے عملے نے امدادی کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عملے کی پہلی ترجیح بچوں کو بچانا تھا اور اس کوشش کے دوران تین سکیورٹی گارڈز جل بھی گئے۔

ہسپتال میں بجلی کی وائرنگ کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے بتایا کہ اس کی آخری مرتبہ مرمت پچیس برس قبل ہوئی تھی۔

وزیرِاعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بھی جمعرات کو سروسز ہسپتال کا دورہ کیا اور اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔