شرح سود بارہ فیصد پر برقرار، سٹیٹ بینک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے مرکزی بینک سٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کے لیے مالیاتی پالیسی کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت شرح سود کو بارہ فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کی معیشت میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق مہنگائی میں بہت زیادہ اضافے کی توقع نہیں اور یہ گیارہ سے بارہ فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے جبکہ رواں مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ ایک اعشاریہ سات فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔

رواں سال چار جون تک حکومت کی جانب سے سٹیٹ بینک سے لیے جانے والے قرضوں کا حجم سولہ سو ساٹھ ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

پاکستان کی تاجر برادری میں اس بارے مختلف رائے پائی جاتی ہے۔

کراچی چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر مزید عزیز کہتے ہیں کہ مرکزی بینک افراط زر میں کمی کے لیے عملی نہیں بلکہ کتابی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی معیشت درآمد پر انحصار کرتی ہے اور یہاں اگر پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر براہ راست پیداوار پر بھی پڑتا ہے اور اس وقت بینک کے پاس جتنا سرمایہ ہے اس کا زیادہ حصہ حکومت کو قرضے دینے میں چلا جاتا ہے جس سے کاروباری افراد پر اثر پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کی معیشت کو آگے بڑھانا ہے تو اس کے لیے شرح سود کو دس فیصد سے کم کیا جانا ضروری ہے۔

عارف حبیب گروپ کے چیئرمین عارف حبیب کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان کی معیشت کے اعدادو شمار جس قسم کے ہیں اس میں اگر کمی کی جاتی تو وہ غیر حقیقی ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کاروباری افراد چاہتے ہیں کہ شرح سود کم ہو تاکہ پیداواری لاگت میں کمی آسکے تاہم شرح سود میں کمی کا عمل معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے کرنا چاہیے نہ کہ صرف انتظامی طور پر۔

عارف حبیب کے مطابق اگر شرح سود برقرار نہ رکھی جاتی تو ملک کے زرمابدلہ کے ذخائر پر دباؤ آنے کا امکان تھا۔

اسی بارے میں