سندھ اسمبلی میں جبری شادیوں پر بجث

پاکستان میں اقلیتوں کی جانب سے شائع ایک اشتہار
Image caption پاکستان میں مبینہ طور پر ہندو لڑکیوں کو جبرا مسلمان کرکے شادی کی جاتی ہے

پاکستان کے صوبۂ سندھ کی اسمبلی میں اگلے مالی سال کے لیے آنے والے صوبائی بجٹ پر بحث کے لیے جمعہ کو اجلاس ہوا جس میں بجٹ پر بحث کے بجائے کراچی میں امن و امان اور ہندو لڑکیوں کو جبراً مسلمان بنا کر شادی کرنے پر بحث کی گئی۔

صوبۂ سندھ کا بجٹ پیر گیارہ جون کو پیش کیا جائے گا اور اسی سلسلے میں سندھ اسمبلی کا پِری بجٹ سیشن بلایا گیا تھا لیکن اس اجلاس میں بجٹ پر کوئی بات نہیں کی گئی۔

صوبائی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی شروع ہونے کے بعد کراچی میں بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کی مذمت کی گئی اور اس سلسلے میں ایک قرارداد بھی پیش کی گئی جسے منظور کرلیا گیا۔

اس کے علاوہ سندھ میں ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کرنے کے بعد ان سے جبراً شادی کے خلاف قانون بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاہم اس دوران اراکینِ اسمبلی کے درمیان تنز و تیز اور غیر سنجیدہ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں اقلیتی اراکین کی جانب سے ایک قرار داد پیش کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ صوبے میں ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بنا کر ان کی جبراً شادیوں کے خلاف قانون بنایا جائے۔

نامہ نگار ارمان صابر کے مطابق اقلیتی رکن سلیم خورشید کھوکھر نے اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اندرونِ سندھ کے علاقوں میں ہندو لڑکیوں کو زبردستی مذہب تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے اور انہیں مسلمان بنانے کے بعد ان کی جبراً شادیاں کروائی جاتی ہیں۔

رکن اسمبلی پیتامبر سیوانی نے کہا کہ یہ بہت ہی حساس نوعیت کا معاملہ ہے اور اس سلسلے میں قانون سازی کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر اجلاس کی کارروائی کی صدارتی نشست پر براجمان ڈپٹی سپیکر شہلا رضا نے صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور ڈاکٹر موہن لعل کوہستانی سے دریافت کیا کہ آیا اس بابت کوئی قانون موجود ہے۔

اس سے پہلے کہ ڈاکٹر موہن لعل کوئی جواب دیتے، رکن اسمبلی پتامبر سیوانی نے کہا ’قانون کا منارٹی وزیرکو کیا پتہ؟ اس کو کپڑے پہننے کے علاوہ قانون کا کچھ علم نہیں ہے۔

صوبائی وزیر ڈاکٹر موہن لعل نے کہا کہ ہندو لڑکیوں سے جبراً شادی کے بارے میں قانون موجود ہے تاہم بدقسمتی سے اس پر عمل نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قانون میں البتہ ترامیم کی ضرورت ہے جس پر غور کیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر صوبائی وزیر بلدیات آغا سراج درانی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر قانون ہی متعلقہ شخص ہیں جو اس بارے میں بتا سکتے ہیں اور اگر دوستوں کو کوئی تحفظات ہیں تو یہ معاملہ چیمبر میں حل کیا جاسکتا ہے۔

وزیرِ موصوف کی اِس پیشکش کے جواب میں رکن اسمبلی پتامبر سیوانی نے کہا کہ وزیر بلدیات یہ معاملہ چیمبر میں کیوں لے جانا چاہتے ہیں، وہ چیمبر نہیں جائیں گے اور ایوان میں ہی بات کریں گے۔

آغا سراج درانی نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’میڈم میں چیمبر میں ان کو سو فیصد گارنٹی دیتا ہوں کچھ نہیں ہوگا، آپ آجائیں چیمبر میں کچھ نہیں ہوتا، وہاں ہم آپ کا مسئلہ حل کرادیں گے۔‘

اس سے قبل کراچی میں بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ایک مذمتی قرارداد پیش کی گئی جو رکن اسمبلی عامر معین پیرزادہ نے پیش کی۔

اسی بارے میں