پنجاب: رانا آصف محمود مستعفیٰ ہوگئے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبے پنجاب کے وزیر خزانہ رانا آصف محمود نے صوبائی بجٹ پیش کرنے سے چوبیس گھنٹے پہلے ہی اپنے عہدے استعفیْ دیتے ہوئے صوبائی کا بینہ سے الگ ہوگئے ہیں۔

رانا آصف محمود نے لگ بھگ ایک ہفتے پہلے وزارت خزانے کا قلمدان سنھبالا تھا اور انہوں نے سینچر کو صوبائی بجٹ پیش کرنا تھا۔

پنجاب کے وزیر خزانہ کا عہدہ دو ماہ سے خالی تھا اور صوبائی بجٹ کے اعلان سے محض دس روز قبل اس عہدے پر نئے وزیر کی نامزدگی کی گئی ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ پنجاب رانا آصف کے مستعفیْ ہونے کی بنیادی وجہ ان کی دوہری شہریت بنی ہے کیونکہ اس وقت سپریم کورٹ ان ارکان اسمبلی کے بارے مقدمہ پر کارروائی کر رہی ہے جن کے پاس دوہری شہریت ہے۔

سپریم کوٹ دوہری شہریت کی وجہ سے مرکز میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے دو ارکان کی شہریت بھی معطل کرچکی ہے اور دیگر ارکان کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

نامہ نگار عباد الحق کے مطابق وزیراعلیْ پنجاب شہباز شریف نے سنیچر کو صوبائی بجٹ پیش کرنے کے لیے وزیر تعلیم میاں مجتبیْ شجاع الرحمان کو وزارت خزانہ کی اضافی ذمہ داری دے دی ہے اور اب وزیر تعلیم پنجاب صوبائی کابینہ کا بجٹ پیش کریں گے۔

رانا آصف محمود پنجاب کے واحد وزیر خزانہ ہیں جن کو مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کے لیے وزیر مقرر کیا لیکن وہ دس روز تک یہ قلمدان سنبھالنے کے بعد بجٹ پیش کیے بغیر ہی اپنے عہدے سے مستفیْ ہوگئے۔

مستعفی ہونے والے وزیر خزانہ رانا آصف محمود پنجاب کی حکمران جماعت مسلم لیگ نون کی جانب سے اقلیتوں کے مخصوص نشست پر رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور وہ صوبہ کے دوسرے وزیر خزانہ تھے جن کا تعلق پاکستان میں بسنے والی اقلیت ہے۔

ان سے پہلے وزارت خزانہ کا قلم دان اقلیتی رکن پنجاب اسمبلی کامران مائیکل کے پاس تھا۔

کامران مائیکل اس سال مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات میں اقلیتی نشست پر مسلم لیگ نون کی جانب سے سینیٹر بن گئے تھے۔

پنجاب میں صوبائی وزیر خزانہ کا منصب تقریباً تین ماہ سے خالی تھا اور صوبائی بجٹ پیش ہونے سے دس دن پہے اس پر مسلم لیگ نون کے اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی رانا آصف محمود کو وزیر نامزد کیا گیا۔

رانا آصف محمود گزشتہ پانچ برس میں پنجاب کے تیسرے وزیر خزانہ تھے تاہم وہ پنجاب کی تاریخ میں سب سے مختصر عرصہ یعنی دس دن کے لیے اس عہدے پر رہے اور پنجاب اسمبلی میں نئے مالی سال کا بجٹ پیش کرنے سے محض چوبیس گھنٹے قبل مستعفیْ ہوگئے۔

اب تک مسلم لیگ نون چار صوبائی بجٹ پیش کرچکی ہے اور پیپلز پارٹی کی مسلم لیگ نون کی صوبائی حکومت سے علیحدگی سے قبل پیپلز پارٹی کے رکن پنجاب اسمبلی تنویر اشرف کائرہ نے وزیر خزانہ کی حیثیت سے تین مرتبہ صوبائی بجٹ پیش کیا۔

تاہم پیپلز پارٹی کی پنجاب حکومت سے علیحدگی کے بعد کامران مائیکل کو وزیر خزانہ بنایا گیا۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بجٹ وفاقی ہو یا صوبائی اس کی تیاری میں وزیر خزانہ کا ایک اہم کردار ہوتا ہے تاہم اب وزیر خزانہ کا عہدہ اسمبلی کے اندر صوبائی تقریر پرھنے یا دوسرے لفظوں میں بجٹ پیش کرنے کی حد تک محدود ہوتا جارہا ہے۔

اسی بارے میں