’اپنے کا نہ سہی میرے بیٹے کا مقدمہ سن لیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آئینی تقاضوں کی وجہ سے اپنے بیٹے کا مقدمہ نہیں سن سکتے لیکن وہ ان کے بیٹے کا مقدمہ سن لیں۔

لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان ان کے بیٹے کو اپنا بیٹا سمجھ کر خود ان کے بیٹے کے مقدمے کی تفتیش کریں۔

ڈرگ سکینڈل: وزیراعظم کے بیٹے کو نوٹس جاری

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نےکہا کہ ’چیف جسٹس اپنے بیٹے ارسلان کا کیس نہیں سن سکتے لیکن وہ میرے بیٹے کا مقدمہ تو سن سکتے ہیں وہ بھی ملک کے وزیر اعظم کا بیٹا ہے۔‘

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ وہ چار برسوں سے میڈیا میں سن رہے ہیں ان ( چیف جسٹس) کو چار دن ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہاکہ چیف جسٹس ان کے بیٹے کے مقدمے کے لیے بینچ تشکیل دیں اور خود اس بینچ کی سربراہی کریں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس سے زیادہ عدالتوں پر کیا اعتماد کر سکتے ہیں۔

انہوں نے چیف جسٹس کے بیٹے ارسلان افتخار کے بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ابھی کوئی ٹھوس بات سامنے نہیں آئی۔

ان کے بقول کوئی الزامات سامنے آئے ہیں اور نہ ہی کو ئی مدعی ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے اس لیے اس پر بات کرنا مناسب نہیں ہوگی۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کاروباری شخصیت ملک ریاض سب کے دوست ہیں ان کو اس کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

سید یوسف رضا گیلانی نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پرکرانے پر اعتراض کیا اور کہا کہ ’اب انگریزوں کے دور نہیں ہے کہ غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔‘

وزیر اعظم نے کہا کہ جمہوریت کا درس دینے والے کو ان کا یہ مشورہ دوں گا کہ وہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرائیں۔

عام انتخابات کے بارے میں سوال وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جب پانچ برس مکمل ہوجائیں گے اس وقت عام انتخابات ہوجائیں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف این آر او ،میمو گیٹ، رینٹل پاور پراجیکٹ اور میرے مقدمے میں فریق بنے لیکن اب ارسلان افتخار کے معاملے میں فریق نہیں بنے۔

ڈرون حملوں کے بارے میں سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اس بارے میں امریکہ سے بات چیت ہو رہی ہے اور جب تک یہ مذاکرات مکمل نہ ہو جائیں اس وقت کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔

نیٹو کے معاملے پر وزیر اعظم نے کہا کہ نیٹو سپلائی روکنے کا فیصلہ قوم کی امنگوں کی ترجمانی تھی اور اب بھی جو کریں گے وہ قومی مفاد کے تحت کیا جائے گا۔

مسلم لیگ نون کے ساتھ مفاہمت کے بارے میں یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ مفاہمت کے دروازے بند نہیں ہوتے ہیں لیکن عمران خان کے دروازے کھل گئے ہیں اس لیے اب انہیں ( وزیر اعظم) جو بڑی گالی دے گا وہ بڑا اپوزیشن لیڈر ہوگا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مارشل لاء کا دور ختم ہوگیا ہے اور اب ملک میں مارشل لاء کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پنجاب حکومت نے توانائی کی پیداوار کے لیے جتنی رقم مختص کی ہے اتنے فنڈز ہر سال بجٹ میں رکھے جاتے تو آج پنجاب توانائی کے معاملے میں خودکفیل ہوتا۔ انہوں نے سوال کیا کہ صوبائی حکومت نے کتنی بجلی پیدا کی۔

ایک سوال پر وزیر اعظم نے صحافیوں کو کہا کہ جب ہم نہیں ہوں گے اس وقت آپ یہ لکھیں گے کہ ہمارے دور میں کتنے کام ہوئے جن کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔

اسی بارے میں