وزیرستان: جھڑپوں میں دس افراد ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر راکٹ حملے اور بعد میں فوجی کارروائی کے دوران ایک فوجی سمیت دس افراد ہلاک اور دس زخمی ہو گئے۔

جنوبی وزیرستان میں ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے بی بی سی ے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کو صدر مقام وانا میں فوجی کیمپ کے قریب امن چیک پوسٹ پر آٹھ راکٹ داغے جس میں ایک اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ نامعلوم شدت پسندوں کے حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے اتوار کی صُبح وانا بازار کے قریب شدت پسندوں کے حلاف کارروائی کی ہے۔

جس کے نتیجے میں نو افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوگئے ہیں۔اہلکار کے مطابق ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ہلاک ہونے والوں میں عام شہری شامل ہیں یا تمام کے تمام شدت پسند ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب سے راکٹ داغنے کا سلسلہ شروع ہوا جو اتوار کی صبح تک جاری رہا اور دونوں طرف سے ایک دوسرے پر حملے کیے گئے۔

مقامی لوگوں کے مطابق اتوار کی صُبح سے فوجی اہلکاروں نے وانا بازار سے ملنے والی تمام راستوں کو بند کر دیا ہے اور کسی کو آنے جانے کی اجازت نہیں ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ بازار کے قریب فوجی کارروائی میں زیادہ تر عام شہری ہلاک ہلاک ہوئے ہیں اور ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔

وانا میں ایک سرکاری اہلکار نے بھی کارروائی کے دوران دو خواتین کے ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔البتہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ خواتین کس طرح ہلاک ہوئیں ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اتوار کی صُبح سے وانا بازار مکمل طور پر بند ہے جہاں فوج اور سکاؤٹس فورس کے مُسلح دستے مختلف علاقوں میں گشت کر رہے ہیں۔

یادرہے کہ وانا مُلا نذیر گروپ کے مقامی طالبان کا گڑھ ہے اور گزشتہ کئی سالوں یہ علاقہ انتہائی پُرامن تھا لیکن اب وہاں تحریک طالبان پاکستان کی موجودگی کی اطلاعات کے بعد حالت گزشتہ ایک عرصے سے خراب ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں