وزیرِاعلٰی کے لیے ایک ارب تیس کروڑ روپے کا نیا جہاز

بلوچستان اسمبلی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نئے بجٹ میں وزیرِ اعلٰی کے لیے نیا جہاز لیا گیا ہے

احساس محرومی، ناانصافی اورحق تلفی کی شکایت کرنے والی بلوچستان کی موجودہ حکومت نے ریاست کے وزیراعلٰی کے لیے ایک ارب تیس کروڑ روپے کا نیا جہاز خرید لیا ہے۔

یہ انکشاف صوبائی وزیر خزانہ میرعاصم کرد گیلو نےمنگل کے روز کوئٹہ بلوچستان پوسٹ بجٹ بریفنگ کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ انیس سو نوے سے وزیراعلٰی کے پرانے جہاز پر چھ سے سات کروڑ روپے کا خرچہ بھی کیا لیکن اس کے باوجود دوتین حادثات ہوتے ہوتے بچ گئے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق صوبائی وزیرخزانہ نے کہا کہ ’چار پانچ مہینے کے بعد تو ویسے ہی ہماری حکومت جا رہی ہے۔ لیکن جو جہاز خریدا گیا ہے اس سے آنے والی حکومت استفادہ کرے گی‘۔

خیال رہے کہ مالی سال دو ہزارگیارہ اور بارہ میں گورنر بلوچستان کے سیکریٹ فنڈ کے لیے پچاس لاکھ روپے رکھے گئے تھے لیکن گورنر سیکریٹ فنڈکی مد میں سترہ کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس طرح وزیراعلٰی بلوچستان کا بھی سیکریٹ فنڈ پچاس لاکھ روپے تھا لیکن وزیراعلٰی نے نو کروڑ پچاس لاکھ روپے خرچ کیے ہیں۔

ان اخراجات پر پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر عثمان کاکڑ کا کہنا ہے کو صوبے کے عوام کو جہاز کی نہیں بلکہ تعلیم ، صحت ، ڈیمز ، روزگار، سڑکیں اور امن کی ضرورت ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبائی وزراء اور ان کے عملے کے لیے گزشتہ سال تیئس کروڑ روپے رکھے گئے تھے لیکن اخراجات بیالیس کروڑ سے زائد ہوئے ہیں۔

یعنی مختص رقم سے بارہ کروڑ روپے زائد خرچ کئے گئے۔

اسی بارے میں