کراچی:تاجر کی ہلاکت پر ہڑتال کا اعلان

فائل فوٹو، لیاری میں آپریشن تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات آئے روز پیش آتے رہتے ہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایم کیو ایم کے سابق رکن اسمبلی کے بھائی ہلاک ہوگئے ہیں۔

رکن اسمبلی کے بھائی تاجر تھے اور ان کی ہلاکت کے بعد چھوٹے تاجروں کی تنظیم نے مبینہ بھتّہ خوری کے خلاف بدھ کو شہر میں کاروبار بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

ہلاکت کا واقعہ منگل کی دوپہر کو شیر شاہ مارکیٹ میں پیش آیا ہے۔

مقتول کرار علی کی نمازے جنازہ فیڈڑل بی ایریا میں ادا کی گئی، جس میں متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین اسمبلی اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی، جس کے بعد مقامی قبرستان میں کرار علی کی تدفین کی گئی۔

پولیس کے مطابق جہان آباد کے علاقے میں مقتول کرار علی کی دکان ہے، وہ اپنے دوست ذاکر کے ساتھ وہاں موجود تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے فائرنگ کر دی۔

فائرنگ کے نتیجے میں کرار علی ہلاک اور ان کے دوست ذاکر زخمی ہوگئے۔ کرار علی ایم کیو ایم کے رہنما اور سابق رکن صوبائی اسمبلی شاکر علی کے بھائی تھے۔

ایس پی جنوبی نعیم بروکا نے واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زخمی کا ابھی بیان نہیں لیا گیا اور بیان کی روشنی میں صورتحال واضح ہوگی۔

دوسری جانب چھوٹے تاجروں کی تنطیم آل کراچی تاجر اتحاد نے بدھ کو شہر میں کاروبار بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

تنطیم کے رہنما عتیق میر کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت کو بہتّر گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا لیکن بھتّہ خوری اور بدامنی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور اس کے برعکس ایک اور تاجر کو ہلاک کر دیا گیا۔

تاجروں کے اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ ٹارگٹ کلنگ اور بھتّہ خوری میں ہلاک ہونے والے تاجروں کے لواحقین کو کم از کم دس لاکھ روپے فی کس زرِ تلافی ادا کیا جائے۔

تاجروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ تاجروں کی تنظیم کے سربراہ عتیق میر نے مطالبہ کیا کہ ’آرمی چیف کراچی آئیں اور امن امان کی صورتحال کا از سر نو جائزہ لیں۔‘

دریں اثنا چھوٹے تاجروں کی ہڑتال کی متحدہ قومی موومنٹ نے بھی حمایت کا اعلان کیا ہے، تنظیم کی رابطہ کمیٹی نے صدر آصف علی زرداری سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں بھتہ خوری کی کارروایوں میں اضافے کا نوٹس لیا جائے اور تاجروں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

دوسری جانب ہڑتال سے قبل منگل کی شب تمام مارکیٹیں اور دکانیں وقت سے پہلے ویران ہو گئیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں سے غائب ہے۔ ہڑتال کے باعث کراچی تعلیمی بورڈ نے اپنے مجوزہ امتحانات ملتوی کردیے ہیں۔

اسی بارے میں