’کمیشن جانبدار تھا، یہی رپورٹ دینی تھی‘

متنازع میمو مقدمے میں امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ کمیشن جانبدار تھا اور اس سے اسی قسم کی رپورٹ کی توقع تھی۔

لاہور ہائی کورٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’کمیشن ہوش کے ناخن لے‘ اور وہ کیسے کسی کو غدار قرار دے سکتا ہے۔۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ کمیشن خود ہی مدعی اور منصف بن گیا اور بقول ان کے کمیشن نے جو رپورٹ مرتب کی تھی وہ پہلے وکلاء کو دی جانی چاہیے تھی۔

لاہور سے ہمارے نامہ نگار عباد الحق نے بتایا کہ حسین حقانی کی وکیل نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ منصور اعجاز خود کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے میمو لکھا تھا لیکن کمیشن کا کہنا ہے کہ حسین حقانی نے زبردستی یہ لکھوایا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کمیشن کے پاس اس بات کی کیا شہادت ہے کہ حسین حقانی نے یہ میمو لکھوایا۔

عاصمہ جہانگیر نے الزام لگایا کہ کمیشن جانبدار تھا اور اس نے خود کو ایکسپوز کیا ہے۔ ان کے بقول کمیشن نے منصور اعجاز کا مقدمہ لڑا ہے۔

سپریم کورٹ بار کی سابق صدر نے یہ اعتراض کیا کہ مقدمہ کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ جو فہرست جاری کرتا ہے اس فہرست میں حسین حقانی کا مقدمہ شامل نہیں تھا اور نہ ہی پیر کی شام پانچ بجے یہ معلوم تھا کہ مقدمہ کی سماعت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں ٹی وی سے یہ معلوم ہوا ہے کہ کیس کی سماعت منگل کو ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ سپریم کورٹ کے وکلاء کے ساتھ ایسا سلوک کیا جارہا ہے اور ٹی وی کے ذریعے ان کو نوٹس دیا جاتا ہے۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ وکلاء کا وقار ہے لیکن ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جارہا ہے کہ جیسے وہ سلطنت کے اندر میراثی ہوں۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ سات سمندر پار ان کے موکل کو نوٹس بھیج دیا لیکن وکیل کو ملک کے اندر نوٹس نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے رولز پر عمل کریں گی اور ٹی وی نوٹسوں پر عدالت میں پیش نہیں ہونگی۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ’اٹارنی جنرل کو رات کو نوٹس کر دیا گیا یہ کیا ڈرامہ ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اٹارنی جنرل ہوتیں تو وہ کبھی پیش نہ ہوتیں۔

سپریم کورٹ بار کی سابق صدر نے یہ اعتراض کیا کہ حسین حقانی کے خلاف یہ مقدمہ سماعت کے لیے کیسے لگا اور اس مقدمہ کو سماعت کے لیے پیش کرنے کی کیا ضرورت تھی۔انہوں نے الزام لگایا کہ کیا میڈیا کی توجہ ہٹانا چاہتے تھے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ حسین حقانی سپریم کورٹ کےحکم پر پاکستان آئیں گے تو عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ پہلے رپورٹ دیکھیں گے ابھی تو کمیشن کی رپورٹ بھی نہیں ملی۔

انہوں نے کا کہ کسی کو غدار کہہ دینا کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔ منصور اعجاز کی شہادت تو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ریکارڈ کی گئی لیکن حسین حقانی کے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا۔ ان کے بقول یہ سیاست بند ہونی چاہیے اس سے عدلیہ کے وقار میں اضافہ نہیں ہوگا۔

عامصہ جہانگیر نے کہا کہ ماضی میں بھی اے این پی کے سربراہ ولی خان اور مشہور شاعر فیض احمد فیض کو غدار قرار دینے والے کمیشن دیکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل کو انہیں بھی غدار کہہ دیا جائے گا اور ایسے کسی کمیشن کو بٹھا دیں گے۔

سپریم کورٹ بار کی سابق صدر نے کہا کہ اپنا رویہ درست کریں اور پچھلی تاریخ کو بہتر بنائیں۔ ان کے بقول انصاف کا یہ مطلب نہیں ہے کہ لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جائیں اور بقول ان کے اس رویہ آپ کو بھی تکلیف ہوگی۔

اسی بارے میں