’بلوچستان کو کالونی سمجھنا چھوڑ دیں‘

فائل فوٹو، تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلوچستان میں تمام تر حکومتی اقدامات کے باوجود حالات معمول پر نہیں آ رہے

پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی جماعت مسلم لیگ نون کے رکن لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے حکومت اور اپوزیشن کی تمام جماعتوں کی اعلیٰ قیادت سے بلوچستان کی صورتحال کا نوٹس لینے اور اس کا فوری حل نکالنے کی اپیل کی ہے۔

یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کے لیے حکومت کے پیش کردہ بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے بلوچستان کے سابق گورنر اور کوئٹہ کے سابق کور کمانڈر عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے حالات سنگین ہو چکے ہیں اور تاحال چار سو مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور سکیورٹی حکام بلوچستان کو اپنی کالونی سمجھنا چھوڑ دیں، برابری کی بنیاد پر سلوک کریں اور وسائل پر صوبے کا حقِ ملکیت تسلیم کریں تو آج بھی بلوچستان کے حالات بہتر کیے جا سکتے ہیں۔

عبدالقادر بلوچ نے نام لے کر اپنی جماعت کے سربراہ میاں نواز شریف، صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، عمران خان اور منور حسن سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان کےمعاملے پر سر جوڑ کر بیٹھیں اور کوئی متفقہ حل نکالیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جو لوگ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں انہیں قانون کے مطابق پھانسی دیں لیکن مسخ شدہ لاشیں نہ دی جائیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق مسلم لیگ نون کے رکن کا حکومت کی جانب سےکسی نے جواب نہیں دیا۔

مسلم لیگ نون جو کئی روز سے وزیراعظم کو توہین عدالت کیس میں ملنے والی تیس سیکنڈ کی علامتی سزا کے بعد ان کو ہٹانے کے لیے سراپا احتجاج ہے، بجٹ سیشن چلنے نہیں دے رہی۔ لیکن منگل کو انہوں نے بجٹ اجلاس میں شرکت کی اور بحث میں حصہ بھی لیا۔ مگر آخر میں نشستیں چھوڑ کر سپیکر کے سامنے نعرہ بازی کی۔

حکومت نے اپوزیشن کی نعرہ بازی کی آواز دبانے کے لیے ایوان میں خصوصی لاؤڈ سپیکر لگائے ہیں اور ابھی جو رکن مائیک پر تقریر کر رہا ہوتا ہے ایوان میں اپوزیشن کے شدید شور شرابے کے باوجود بھی ان کی آواز صاف سنائی دیتی ہے۔

مسلم لیگ نون نے وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے دوران شدید ہنگامہ کیا تھا اور بجٹ کو جعلی قرار دے کر مسترد کیا تھا۔ لیکن جب بجٹ پر بحث شروع ہوئی تو اس کا آغاز اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان کے بجائے احسن اقبال نے کیا۔ لیکن بعد میں بجٹ پر بحث کا بائیکاٹ کیا اور ایوان میں شدید ہنگامہ کیا۔

چند روز بعد انہوں نے حکمت عملی اپنائی کہ اراکین کو لابی میں بٹھاتے اور کورم کی نشاندہی کرتے رہے۔ ایک دن کورم تین بار ٹوٹا لیکن اس کے بعد جب بھی سعود مجید نامی رکن اسمبلی، کورم کی نشاندہی کرتے ہیں تو مطلوبہ تعداد یعنی چھیاسی اراکین حاضر ہوتےہیں۔ مسلم لیگ نون نے پارلیمان سے ایوان صدر تک جلوس بھی نکالا اور کہا کہ یوسف رضا گیلانی سزا کے بعد قانونی وزیراعظم نہیں رہے۔

بجٹ پر بحث کے دوران منگل کو اجلاس ختم ہونے سے چند منٹ پہلے جب مسلم لیگ نون نے نعرہ بازی شروع کی اور ’گو گیلانی گو‘ کا نعرہ لگایا تو پیپلز پارٹی کے رکن ممتاز گیلانی نے کہا کہ ’میں بھی گیلانی ہوں اور میری بہن جمیلہ گیلانی بھی موجود ہیں اس لیے گو گیلانی گو کا نعرہ نہ لگائیں۔‘

ممتاز گیلانی نے کہا کہ مسلم لیگ نون آمروں، تاجروں اور سرمایہ کاروں کی جماعت ہے اس لیے انہیں جمہوریت کی کوئی قدر نہیں۔ عام طور پر خاموش رہنے والے پیپلز پارٹی کے یہ بزرگ کارکن منگل کو اپنے سیاسی مخالفین پر کھل کر برسے اور کہا کہ ’انہوں نے عدالتوں کو جیب میں ڈالنا سیکھا ہے۔۔۔یہ سیاسی تنہائی کا شکار ہیں صرف چھوٹے میاں اور بڑے میاں رہ گئے ہیں۔‘

اسی بارے میں