ملک ریاض کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کی منگل کو کی جانے والی پریس کانفرنس پر انہیں توہینِ عدالت میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ازخود نوٹس میں سپریم کورٹ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ملک ریاض کی پریس کانفرنس میں عدلیہ اور ججوں کو نہ صرف سکینڈلائز کیا گیا بلکہ ان کا تمسخر بھی اڑایا گیا۔

عدالت نے نوٹس میں کہا کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے۔

سپریم کورٹ کے جج شاکر اللہ جان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کو اس از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

اظہار وجوہ کا نوٹس آئین کے آرٹیکل 204 اور توہینِ عدالت ایکٹ کے سیکشن تین اور سپریم کورٹ رولز کے سیکشن سترہ کے تحت جاری کیا گیا۔

جسٹس شاکر اللہ جان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ تشکیل دیا ہے۔ جو بدھ کو اس معاملے کی سماعت کرے گا۔

عدالت نے ملک ریاض کو جمعرات کو عدالت میں پیش ہونے کو کہا ہے۔

جسٹس شاکر اللہ جان چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بعد سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج ہیں۔

ملک ریاض نے اپنی نیوز کانفرنس میں موقف اختیار کیا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدرے کو ارسلان افتخار کے ملک ریاض سے مالی فوائد حاصل کے کے معاملے کا پہلے سے علم تھاآ ان کا الزام تھا کہ ڈاکٹر ارسلان افتخار نے پوری سپریم کورٹ کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ تاہم بعد ازاں سپریم کورٹ کے رجسٹرار فقیر حسین نے اس بات کی تردید کر دی تھی۔

پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے جمعہ کو سپریم کورٹ کا فُل کورٹ اجلاس طلب کر لیا ہے۔

سپریم کورٹ کے ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کی پریس کانفرنس میں چیف جسٹس اور سپریم کورٹ پر عائد کیے گئے الزامات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔

بدھ کی صبح چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے جج صاحبان کا ایک غیر رسمی اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں ملک ریاض کی پریس کانفرنس کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔

ملک ریاض کے الزامات، رجسٹرار سپریم کورٹ کی تردید

ارسلان افتخار، ملک ریاض کی عدالت میں پیشی

سپریم کورٹ کے ذرائع کے مطابق جج صاحبان نے اس پریس کانفرنس کی ویڈیو ریکارڈنگ طلب کی ہے اور فل کورٹ اجلاس میں اس کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس سے قبل سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ اس اجلاس میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور ماتحت عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کو فوری نمٹانے کے علاوہ انتظامی امور بھی زیر غور آئیں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ چونکہ عدالتوں میں سولہ جون سے گرمیوں کی چھٹیاں ہو رہی ہیں اس لیے ان امور کو نمٹانے کے لیے یہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

ملک ریاض کے الزامات، رجسٹرار سپریم کورٹ کی تردید

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

گزشتہ روز منگل کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے رجسٹرار نے ملک ریاض کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے رات کے اندھیروں میں ملاقاتوں سمیت دیگر الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ارسلان افتخار کو مبینہ طور پر پہنچائے گئے مالی فوائد سے ان کے والد، افتخار محمد چوہدری لا علم تھے۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے منگل کو چیف جسٹس کی ذات پر ملک ریاض کے عدالت میں بیان اور اس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں لگائے گئے الزامات کا جواب دیا۔

ڈاکٹر فقیر نے ملک ریاض کے اس الزام پر کہ وہ رات کے اندھیرے میں چیف جسٹس سے ملاقات کرتے رہے ہیں، کہا کہ چیف جسٹس اپنی معزولی کے دور میں دو یا تین مرتبہ ملک ریاض سے ملے ہیں۔ ملک ریاض نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ چیف جسٹس ان سے اپنی ملاقاتوں کے بارے میں قوم کو آگاہ کریں۔

ڈاکٹر فقیر حسین نے اس ضمن میں مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقاتیں ججوں کی بحالی کے معاملے میں مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تناظر میں ہوئی تھیں۔

رجسٹرار کا کہنا ہے کہ ملک ریاض ان ملاقاتوں کے لیے چیف جسٹس کے گھر آئے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ چیف جسٹس آصف علی زرداری سے ملاقات کریں تاہم انہوں نے اس سے انکار کر دیا تھا۔

ملک ریاض کے کاروباری شراکت دار احمد خلیل کے گھر پر وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقاتوں کے بارے میں دعوے پر ڈاکٹر فقیر حسین نے کہا کہ ممکن ہے کہ لاہور میں کسی سماجی تقریب میں دونوں شخصیات ملی ہوں اور وزیراعظم سے چیف جسٹس کی ملاقاتیں تو ریکارڈ پر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹسں ملک ریاض کی طرف سے ارسلان چوہدری کو پہنچائے گئے مبینہ مالی فوائد کے بارے میں قطعی طور پر لا علم تھے

قبل ازیں سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت کے دوران جمع کروائے گئے بیان میں ملک ریاض نے الزام لگایا کہ ارسلان افتخار نے سنہ دو ہزار دس اور گیارہ کے دوران مبینہ طور پر ان سے چونتیس کروڑ پچیس لاکھ روپے کی رقم زبردستی ہتھیا لی۔

ملک ریاض کی جانب سے جو بیان جمع کروایا گیا ہے اُس میں ڈاکٹر ارسلان کے سنہ دو ہزار دس اور گیارہ میں برطانیہ اور مونٹی کارلو کے دورے پر اُٹھنے والے اخراجات کی ادائیگی سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔

ملک ریاض کے بقول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے کو مختلف اوقات میں تیس کروڑ روپے سے زائد کی رقم ادا کی گئی لیکن یہ رقم اُنہوں نے نہیں بلکہ اُن کے داماد نے دی۔

عدالت نے اُن کے وکیل سے یہ پوچھا کہ جب رقم سلمان نے ادا کی ہے تو ڈاکٹر ارسلان اُنہیں کیسے بلیک میل کر رہے ہیں جس کا وہ جواب نہ دے سکے۔

بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حسین نے ملک ریاض کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہ انصاف مانگنے نہیں بلکہ خریدنے آئے ہیں۔

اسی بارے میں