جاگے بھاگ منموہن کے آبائی گاؤں کے

Image caption سکول کھلنے سے بچوں کی تعلیم کا مسئلہ بھی حل ہوا

پاکستان ان دنوں توانائی کے شدید بحران کا سامنا کر رہا ہے اور کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ نے لوگوں کو سڑکوں پر آنے اور احتجاج کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

لیکن پنجاب کے ضلع چکوال میں ایک ایسا گاؤں ہے جہاں کے رہائشی بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے کم متاثر ہو رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ کا آبائی گاؤں ہے اور اسی گاؤں میں ان کی پیدائش ہوئی تھی۔

دو ہزار چار میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد جب منموہن سنگھ نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیا تو اس کے بعد سے پاکستان کے چھوٹے سےگاؤں گاہ کے رہائشیوں کی قسمت کا ستارہ جاگ گیا۔

سابق یو سی ناظم اور گاہ کے رہائشی عاشق حسین نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومتِ پاکستان نے اپنے وسائل کے مطابق تھوڑا بہت کام کیا ہے لیکن اگر منموہن سنگھ کا تعلق اس گاؤں سے نہ ہوتا تو شایدگاؤں میں کشادہ سڑک اور بڑی عمارتیں نہ ہوتیں۔‘

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں ضلع چکوال کے چھوٹے سے گاؤں گاہ کو ماڈل ولیج کا درجہ دیا گیا اور چکوال سے گاہ تک کشادہ سڑک تعمیر کی گئی۔

اس کے علاوہ حکومت نے کمیونٹی سینٹر، پرائمری اور ہائی سکول تعمیر کیے۔ گاؤں کی گلیوں کو پکا کیا گیا اور پینے کے صاف پانی کے ایک منصوبے سمیت کئی بنیادی سہولتیں فراہم کیں اور ترقیاتی کام کروائے۔

منموہن سنگھ کے بچپن کے دوست راجہ محمد علی نے جب ان کو وزیراعظم بننے پر مبارک باد کا پیغام بھیجا تو اس کے بعد سے منموہن سنگھ کا گاؤں والوں سے رابطہ قائم ہو گیا۔

عاشق حسین کہتے ہیں کہ دو ہزار چار کے بعد ہم مسلسل ان کے ساتھ خط وکتابت کر رہے ہیں اور ہم نے ان کو اپنے گاؤں آنے کی دعوت بھی دی اور انہوں نے حامی بھی بھر لی ہے۔ ’جب ہمارے چچا راجا محمد علی بھارت گئے تھے تو انہوں نے ان کی کافی خدمت کی اور کافی وقت ساتھ گزارا‘۔

ستائیس ستبر دو ہزار دس کو راجا محمد علی کی وفات ہوگئی اور عاشق حسین کے بقول منموہن سنگھ نے گاؤں والوں کو تعزیت کا پیغام بھیجا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ گاہ ایک چھوٹا گاؤں ہے لیکن بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ کی وجہ سے اس کو ساری دنیا میں شہرت ملی ہے اور اس میں تمام بنیادی سہولتیں موجود ہیں۔

ان کے مطابق حکومتِ پاکستان نے تو کافی ترقیاتی کام کروائے ہیں لیکن بھارتی حکومت کی بھی گاؤں پر نظر پڑی ہے۔

Image caption گاؤں کی مسجد کے اوپر بھی سولر پینل لگایا گیا ہے

’ کچھ برس پہلے منموہن سنگھ کی ہدایت پر دی انرجی اینڈ ریسورس انسٹی ٹیوٹ کے حکام نےگاہ کا دورہ کیا تھا اور لوگوں سے پوچھا کہ انہیں کیا مشکلات درپیش ہیں، بھارتی حکومت پوری کرنے کی کوشش کرے گی۔‘

انہوں نے بتایا کہ گاؤں میں تقریباً پچاس ایسے مکانات ہیں جہاں بجلی کی سہولت نہیں تھی اور لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا تو لوگوں نے بھارتی حکام سے بجلی کی سہولت مہیا کرنے کی فرمائش کی تھی۔

بعد میں منموہن سنگھ کی ہدایت پر ٹاٹا بی پی سولر کمپنی کے کچھ انجینیئرز گاؤں میں آئے اور انہوں نے اکاون مکانات میں سولر پینل یعنیٰ شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے آلات لگائے اور گاؤں کی گلیوں میں تقریباً سولہ سٹریٹ لائٹس بھی لگائی جو شمسی توانائی سے روشن رہتی ہیں۔

بھارتی انجینیئرز نے شمسی توانائی سے چلنے والے گیزرز اور بایو گیس کے تین پلانٹ بھی لگائے۔ عاشق حسین کے مطابق منموہن سنگھ کی خاص ہدایت پر انہوں نے مسجد میں بھی گیزر لگائے کیونکہ سردیوں کے موسم میں نمازیوں کو تکلیف ہوتی تھی۔

گاؤں کے ایک رہائشی آصف شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی سے بہت خوش ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر سولر پینل نا ہوتے تو انہیں گرمیوں کے موسم میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔

Image caption منموہن سنگھ کی وجہ سےگاہ کی گلیاں بھی درست کی گئیں

انہوں نے کہا کہ ’بھارت کے وزیراعظم ہمارے گاؤں کے ہیں اور اسی کو دیکھتے ہوئے بھارتی حکومت نے ہمیں بجلی کا یہ تحفہ دیا ہے۔ ہم ان کے شکرگزار ہیں۔‘

پاکستان ان دنوں بجلی کے شدید بحران کا سامنا کر رہا ہے اور کئی علاقوں میں دس سے پندرہ گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے اور پنجاب کے کئی شہروں میں مسلسل مظاہرے اور احتجاجی جلوس ہو رہے ہیں۔

عاشق حسین کہتے ہیں کہ منموہن سنگھ کی وجہ سے ان کے گاؤں والوں کو وہ دن نہیں دیکھنے پڑ رہے ہیں اور وہ بجلی کےلیے سڑکوں پر احتجاج نہیں کر رہے۔

ایک اور رہائشی یوسف نے بتایا کہ جب ان کے مکان میں سولر پینلز نہیں لگے تھے تو وہ جنریٹر کی مدد سے اپنے مکان کو روشن رکھتے تھے جو کافی مہنگا پڑتا تھا لیکن جب سے سولر پینلز لگے ہیں ان کا کافی پیسا بچ رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں ’اب ہم رات کو ٹی وی پر خبریں اور ڈرامے دیکھتے ہیں، اپنے موبائل فون چارج کرتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہمارا گھر روشن رہتا ہے۔‘

اپنے مکان میں بجلی کی وجہ سے یوسف کافی خوش نظر آ رہے ہیں اور انہوں نے منموہن سنگھ کو دعائیں دیں اور کہا کہ جب وہ گاہ آئیں گے تو وہ ان کا گرم جوشی کے ساتھ استقبال کریں گے۔

اسی بارے میں