کراچی جیل میں منشیات اور موبائل فونز

کراچی جیل تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آئی جی جیلز کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہے

کراچی میں پولیس نے موبائل ٹیلیفون اور منشیات جیل میں پہنچانے کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔

آئی جی جیل خانہ جات غلام قادر تھیبو کا کہنا ہے کہ جیل میں ایک سیاسی جماعت سے وابستہ قیدیوں کے وارڈ میں ٹوائلٹ کی تعمیر کے لیے سیمنٹ کے بلاکس منگوائے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ جیل کے اندر بلاکس کی منتقلی سے پہلے ان کی تلاشی لی گئی تو ان میں سے چھ موبائل ٹیلیفون، بیٹریاں اور منشیات برآمد ہوئی۔

پولیس نے اس غیر معمولی واقعے کا ابھی تک کوئی مقدمہ درج نہیں کیا ہے اور نہ کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے، آئی جی جیلز کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ سندھ کی جیلوں کے اندر موبائل ٹیلیفون کے استعمال پر پابندی ہے مگر اس کے باوجود مجرموں تک موبائل ٹیلیفون پہنچ جاتے ہیں اور جیل سرچ کے دوران کئی بار برآمد بھی ہوئے ہیں۔

ماضی میں پولیس کو بعض ایسے شواہد بھی ملے ہیں جس کے تحت مجرمانہ کارروایوں کے لیے باہر کے مجرم جیل سے ہدایت لیتے رہتے ہیں۔

صوبائی حکومت نے جیلوں کے اندر سگنل جیمر لگانے کا فیصلہ بھی کیا تھا مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے۔

اسی بارے میں