’وزیراعظم گیلانی سزایافتہ ہیں نااہل نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ معاملہ بہت اہم ہے اور اس کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے:اعتزاز احسن

وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کے وکیل اعتزاز احسن نے اپنے موکل کے بارے میں قومی اسمبلی کی سپیکر کی رولنگ سے متعلق درخواستوں پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی رکن پارلیمان کو دو سال سے کم سزا دی جائے تو وہ نا اہل نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی نہ تو پارلیمان کی رکنیت اور نہ ہی وزیراعظم کے عہدے سے نااہل ہوئے ہیں۔

جمعہ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ توہین عدالت کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے فیصلے کے بعد سپیکر نے فیصلے سے متعلق اپنا ذہن استعمال کیا اور ان کے مطابق اس فیصلے میں یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو دی گئی سزا کا مطلب نااہلی نہیں ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر یوسف رضا گیلانی کو جیل بھی ہوجاتی تو کیا وہاں پر بھی وہ وزیر اعظم کے عہدے پر ہی فائز رہتے جس پر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وہ یہ بات خود نہیں کہہ رہے بلکہ آئین میں لکھا ہوا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین میں تو کہیں ایسا نہیں لکھا اس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ ’کبھی ہماری بات بھی مان لیا کریں‘ جس پر چیف جسٹس نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی بات ہی تو مانتے ہیں اس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ ’آج کل آپ ہماری بات نہیں مان رہے‘ جس پر کورٹ روم میں قہقہہ بلند ہوا۔

اعتراز احسن کا کہنا تھا کہ سپیکر کا کردار محض ڈاکخانے کا نہیں ہے اور اگر کسی بھی رکنِ اسمبلی کی اہلیت سے متعلق اگر کوئی سوال اٹھتا ہے تو سپیکر اپنا ذہن استعمال کرتا ہے۔

اعتراز احسن کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ بہت اہم ہے اور اس کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’اگر یوسف رضا گیلانی کو جیل بھی ہوجاتی تو کیا وہاں پر بھی وہ وزیر اعظم کے عہدے پر ہی فائز رہتے‘

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اب تک سپیکر نے کسی رکن پارلیمان کی نااہلی سے متعلق ریفرنس نہیں روکا۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ماضی میں جاوید ہاشمی کا ریفرنس روکا گیا تھا۔ بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جاوید ہاشمی کا معاملہ نا اہلی سے متعلق نہیں تھا۔

بینچ نے وزیر اعظم کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا سپیکر کا اختیار عدالتی ہے یا انتظامی اور کیا وہ نہیں سمجھتے کہ قومی اسمبلی کی سپیکر نے رولنگ دیکر عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دیا۔ چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ سپیکر کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ایک سزا یافتہ شخص ہیں اور انہیں اس کے خلاف اپیل کرنی چاہیے تھی جس پر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اپیل دائر نہ کرنے کا فیصلہ یوسف رضا گیلانی کا اپنا فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سزا کو چیلنج نہیں کر رہے بلکہ یہ سزا قبول ہے تاہم نااہلی قبول نہیں ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لوگ تو سزا کاٹنے کے بعد بھی اپنی ذات پر لگے ہوئے دھبے کو دھونے کے لیے بھی درخواستیں دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ہوتا کہ وہ اس سزا کے خلاف درخواست دائر کرتے اور پھر یہ دلائل دیتے۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ سات رکنی بینچ کے فیصلے کے بعد وزیر اعظم کی خود بخود نااہلی نہیں ہوئی اور اس کے لیے سپیکر کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ اس مقدمے میں سپیکر قومی اسمبلی کی نمائندگی نہیں کر رہے جس پر وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ سپیکر کی رولنگ سے انہیں فائدہ پہنچا ہے اس لیے وہ اس بارے میں دلائل دیں گے۔

اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ سپیکر کی رولنگ کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا اور وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہیں۔

اس مقدمے کی سماعت اٹھارہ جون تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔ عدالت نے وزیر اعظم کے وکیل کو آئندہ سماعت کو اپنے دلائل مکمل کرنے کو کہا ہے۔

اسی بارے میں