بلوچستان: تشدد میں دو بچے ہلاک

فرنٹیئر کانسٹیبلری تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کشیدگی پر قابو پانے کے لیے پولیس اور فرنٹیئرکور کی بھاری نفری کوطلب کرلیاگیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے کچلاک میں نامعلوم افراد کی جانب سے قرآن جانے کے مبینہ واقعے کے بعد پرتشدد واقعات میں دوبچے ہلاک اور بیس سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

مشتعل افراد نے تھانے اور پانچ گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ زخمی ہونے والوں میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق سنیچرکی صبح کچلاک کے علاقے میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ انہیں ایک قرآن جلی ہوئی حالت میں ملا۔

اس کے بعد مقامی لوگوں نےنہ صرف احتجاج شروع کیا بلکہ کوئٹہ چمن قومی شاہراہ کو بھی ٹریفک کے لیے بند کردیا۔

بعد میں مظاہرین نے کچلاک تھانہ کی طرف جلوس نکالا۔ جلوس کے شرکاء جب کچلاک پولیس تھانہ پہنچے تو بعض مشتعل مظاہرین نے تھانے کوآگ لگا دی۔اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان نہ صرف جھڑپ ہوئی بلکہ دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

فائرنگ کے تبادلے میں دو بچے ہلاک اور گیارہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں علاقے کے ایس پی ملک ارشد سمیت چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

زخمیوں کو فوری طور پر سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کردیاگیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ انتظامیہ نے کشیدگی پر قابو پانے کے لیے پولیس اور فرنٹیئرکور کی بھاری نفری کوطلب کرلیاگیا ہے۔

دوسری جانب علماء کرام نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ واقعہ میں ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کر کے سزا دی جائے۔

اسی بارے میں