’ایل او سی پر فائربندی کی خلاف ورزی‘

ایل او سی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت اور پاکستان کے درمیان برسوں کی کشیدگی کے بعد نومبر سنہ دو ہزار تین میں متنازعہ کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکام نے ہندوستان کی فوج پر لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی نے بتایا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی فوج نے سنیچر کی رات کو پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق تقریباً نو بجے جنوبی ضلع راولاکوٹ کے بٹل علاقے میں فائرنگ شروع کی۔

یہ علاقہ لائن آف کنٹرول سے چند سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی فوج نے فائرنگ میں مشین گنوں اور مارٹر کا استعمال کیا اور پاکستان کی فوج نے بھی جواب میں کارروائی کی۔

حکام کے مطابق فائرنگ کا تبادلہ علی الصبح تک جاری رہا لیکن یہ دونوں افواج کی سرحدی چوکیوں کی تک ہی محدود رہا۔

حکام کا کہنا ہے کہ انھیں معلوم نہیں ہے کہ اس میں دونوں طرف سے کوئی جانی نقصان ہوا ہے یا نہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں بٹل اور مدار پور میں ہندوستان اور پاکستان کی افواج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کا یہ پہلا موقع ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کا آغاز اب سے پانچ دن پہلے ہوا تھا اور فائرنگ کا یہ تبادلہ اتوار کی صبح تک وقفے وقفے سے جاری رہا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ابتداء میں بھارتی فوج کے فائرنگ کی زد میں شہری آبادی بھی آئی جس کے نتیجے میں چار عام شہری زخمی ہوئے جن میں دو خواتین اور دو مرد شامل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ فائرنگ کا تبادلہ اسی علاقے تک محدود ہے اور الزام عائد کیا کہ ہندوستان نے بغیر کسی اشتعال کے فائرنگ شروع کی۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ انھیں وجہ نہیں معلوم کہ اس علاقے میں اچانک کیوں فائرنگ شروع ہوئی۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان برسوں کی کشیدگی کے بعد نومبر سنہ دو ہزار تین میں متنازع کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا جو اب تک قائم ہے۔

لیکن اس دوران اب تک لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں تاہم فائرنگ کا تبادلہ کم و بیش دونوں ممالک کی افواج کی چوکیوں تک ہی محدود رہا۔

اس کے نتیجے میں دونوں اطراف سے کئی فوجی ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں البتہ ان ساڑھے آٹھ سالوں کے دوران اب تک لائن آف کنٹرول پر حکام کے مطابق بھارتی فوج کی مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں چند ایک شہری ہلاک جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

دونوں ممالک ایک دوسرے پر فائر بندی کی خلاف ورزی کرنے اور فائرنگ شروع کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان فائر بندی کے معاہدے سے پہلے لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ معمول کی بات تھی۔

اس کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب سینکڑوں شہری ہلاک و زخمی ہوئے یا پھر عمر بھر کے لیے معذور ہوئے اور لوگوں کی املاک تباہ ہوئیں یا ان کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

بھارت اکثر پاکستان پر عسکریت پسندوں کو تربیت دینے، اسلحہ فراہم کرنے اور انھیں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں داخل کرانے کے لیے فائرنگ کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے لیکن پاکستان اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے ۔

پاکستان کا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ وہ کشمیریوں کی صرف اخلاقی، سفارتی اور سیاسی مدد کرتا ہے۔

اسی بارے میں