جو دوسروں کے لیےگڑھا کھودتا ہے۔۔۔

دنیا ٹی وی کے شو کی جھلک تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اب تک جو ’اینکر‘ سیاستدانوں کا یہ حشر مزے لے لے کر کر رہے تھے آج قسمت نے ان میں سے دو کا ساتھ نہیں دیا۔

پاکستان میں ویسے تو آج کل کپڑے پہنانے کا کاروبار بہترین کاروباروں میں سے ایک ہے۔ کہیں ’لان‘ سونے کے بھاؤ فروخت کی جا رہی ہے تو کہیں ’دولہا ہم سجائیں گے‘ کا نعرہ لگا کر دولہا اور اس کے بہن بھائیوں کو کئی پریشانیوں سے ’بچایا‘ جا رہا ہے۔

لیکن میں بات تفصیل سے ایسے کاروبار کے بارے میں کرنا چاہتا ہوں جس میں آج کل بڑے زور و شور سے کپڑے اتارے جا رہے ہیں۔ سیاستدانوں کے کپڑے روزانہ کی بنیاد پر ہر چینل پر رات گئے ٹاک شوز (رات کی عدالتوں) میں کئی برسوں سے تواتر کے ساتھ اتارے جا رہے ہیں۔

مسئلہ سیاسی ہو، انتظامی ہو یا سماجی چاقو، چھریاں ہاتھ میں لیے ہر چینل پر دسیوں ’اینکر‘ سیاستدانوں کو آمنے سامنے بٹھا کر مرغوں کی طرح لڑا رہے تھے اور تماشہ سارا زمانہ دیکھ رہا ہے۔

ان روزانہ کے درجنوں بحث مباحثوں کا حاصل وصول چند پگڑیاں اچھالنے کے سوا کچھ نہیں رہا۔ بات اتنی بگڑی کہ سٹیج پر جگتیں مارنے کے ماہر بھی ایسی ہی دکانیں سجانے آ بیٹھے۔ سیاستدان کی رہی سہی عزت بھی نیلام ہوگئی۔ ان کی غیرموجودگی میں بھی ان کا ایسا غیراخلاقی مذاق اڑایا جانے لگا کہ توبہ امان ہی بہتر۔

اگر کچھ فائدہ تھا تو ان پچیس تیس نیوز چینل کے مالکان کو تھا۔ کچھ لے دے کر ایک آدھ اینکر ماہانہ تنخواہ پر رکھ لیا اور بس۔ سیاستدان جو جلسے جلوسوں پر لاکھوں خرچ کرتے تھے مفت کے ائر ٹائم کے چکر میں آج تک ان شوز کی رونق بڑھا رہے ہیں۔

سیاسی جماعتوں نے اس مقصد کے لیے باضابطہ اپنے رہنماؤں کو ڈیوٹیاں تفویض کر رکھی تھی۔ بعض بےچارے تو ڈبل ڈیوٹیاں بھی کرتے رہے ہیں یعنی ایک دو یا پھر تین شوز میں شرکت۔ کبھی ایک تو کبھی دوسرا سیاستدان شو کے اختتام تک اپنی لنگوٹ بچا لیتا لیکن کئی سیاستدانوں یا وزراء کو تو شو کے دوران اندازہ ہوتا کہ وہ ان کی عزت بڑھانے کا نہیں بلکہ رہا سہا لباس بھی اتارنے کا سبب ہیں تو وہ لائیو پروگرام سے اٹھ کر روانہ بھی ہوگئے لیکن یہ ناراضگی عارضی ثابت ہوتی۔

دوسرے روز وہ پھر کسی دوسرے چینل پر دکھائی دے رہے ہوتے۔ ان کی مجبوری مالکان کی چاندی ثابت ہوئی۔یہی گرما گرم پروگرام چینل کے دو چار گھنٹے نکال دیتے ہیں۔ لیکن ان کے لیے اصل فائدہ اقتدار اور سیاست کے ایوانوں میں ان کی قد کاٹھ میں اضافہ ثابت ہوا۔

لیکن جو گڑھا دوسروں کے لیے کھودتا ہے وہ خود بھی اس میں گرتا ہے۔ اب تک جو ’اینکر‘ سیاستدانوں کا یہ حشر مزے لے لے کر کر رہے تھے آج قسمت نے ان میں سے دو کا ساتھ نہیں دیا۔ ان کی ’آف ائر گفتگو‘ کیا سامنے آئی ہر کسی نے پرانے حساب کتاب برابر کرنے کی ٹھان لی۔

حقیقت سے زیادہ خواہش کی بنیاد پر تیار کی گئی مراعات کی جعلی فہرستیں بھی گردش کرنے لگیں۔

سب سے اہم پیشرفت معروف اینکروں کی ایک دوسرے سے مخاصمت کا کھل کر سامنے آنا ثابت ہوا۔ پہلی مرتبہ وہ سیاستدانوں کی بجائے ایک دوسرے کو نشانہ بنانے لگے ہیں۔ چینلوں کی درمیان بھی دبی دبی جنگ اب باقاعدہ قومی جنگ کا احساس دینے لگی ہے۔ ٹی وی چینل کے لیے متفقہ ضابطۂ اخلاق کی کمی ہر کسی کو چبھنے لگی ہے۔

یہ کام تو نجی میڈیا کا ہے کہ وہ کریں لیکن اس میں پمرا جو کردار ادا کرسکتی تھی وہ بھی اس نے نہیں ادا کیا۔ اب جب عدالت عظمی نے اس کے کان پکڑے تو اسے بھی نوٹس جاری کرنے کا خیال آیا ہے۔

اس تمام تر صورتحال میں تاہم مجھ جیسے صحافیوں کو ایک مرتبہ پھر اپنے محض صحافی ہونے پر اطمینان محسوس ہوا۔ شکر کیا کہ صدر یا وزیر اعظم کے ساتھ سرکاری دورے پر جانے کے مزے سے آج تک شناسائی نہیں، کبھی کسی کا بیان شائع یا نشر کرنے پر لفافہ نہیں ملا جس پر عیاشی کر سکتے، ابھی کسی کے مکان یا فلیٹ پر قبضہ نہیں کیا، کبھی سرکاری خرچے پر حج کی نوبت نہیں آئی، کسی وزیراعظم کے بیٹے کا بےتکلف فون نہیں آتا، کسی افسر سے پیشہ ورانہ حد سے زیادہ سلام دعا نہیں ہے تو اچھا ہے اور ملک ریاض کی فہرست میں نام نہیں تو بہت بہتر ہے۔

کسی شخص سے کوئی لالچ نہیں تو وہ بھی بدلے میں کسی فائدے کا تقاضہ نہیں کرتا۔ سکون ہے تسلی ہے۔

ملک ریاض کی فہرست تو دور کی بات اپنی اوقات تو گزشتہ دنوں بحریہ ٹاؤن میں آوارہ گردی کے دوران سمجھ آئی۔ ملک ریاض کے قریب بتائے جانے والے ایک پراپرٹی ڈیلر کے دفتر کے سامنے دو تین بڑی لینڈکروزرز اور پجیرو جیپوں کے درمیان اپنی چھ سو سی سی کی گاڑی کھڑی کر کے اندر داخل ہوئے۔ بڑی سی کرسی پر براجمان یا تقریباً لیٹے ہوئے ایک سابق کرنل صاحب نے اپنے ملازم سے اپنے لیے چائے اور ہمارے لیے پانی لانے کو کہا۔ ہم اپنا سا منہ لے کر نکل آئے۔

یہ سلوک برداشت کوئی کوئی کرسکتا ہے ورنہ سو ضابطۂ اخلاق بنا لیں۔۔۔

اسی بارے میں