’چیف تیرے جانثار‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption تحریک انصاف کے کارکنان کا کہنا ہے کہ عدلیہ کے خلاف ایک بڑی سازش ہو رہی ہے

عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف نے پیر کو سپریم کورٹ سے اظہار یکجہتی کے لیے دارالحکومت اسلام آباد، لاہور اور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرے کیے ہیں۔

تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ حکومت کاروباری شخصیت ملک ریاض کے ساتھ مل کر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف سازش کر رہی ہے جبکہ حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان افتخار پر ناجائز طریقے سے کروڑوں روپے حاصل کرنے کے الزامات سامنے آنے کے بعد وکیلوں کی تنظیموں نے چیف جسٹس کی حمایت میں جلسے، جلوس حتی کہ عدالتوں کا بائیکاٹ تک کیا ہے لیکن تحریک انصاف واحد سیاسی جماعت ہے جو اس معاملے پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی حمایت میں سڑکوں پر نکلی ہے۔

اسلام آباد میں جلوس کی گزرگاہوں پر تحریک انصاف نے نمایاں طور پر بینرز آویزاں کیے تھے جن پر پارٹی کے جھنڈے کے لال ہرے رنگ کے پس منظر میں دائیں طرف چیف جسٹس اور بائیں طرف عمران خان کی تصاویر تھیں جن کے بیچ میں یہ عبارت درج تھی ’آزاد عدلیہ، آزاد پاکستان‘۔

سابق فوجی حکومت کی جانب سے معزول کیے گئے اعلی عدالتوں کے معزول ججوں کو بحال ہوئے تین برس بیت گئے ہیں اور بظاہر سپریم کورٹ سمیت ملک کی اعلی عدالتیں آزادانہ طور پر اپنا کام کر رہی ہیں، ایسے میں تحریک انصاف کو سپریم کورٹ کے لیے ایسا کیا خطرہ محسوس ہوا کہ عدالت کی حمایت میں اسے سیاسی مہم چلانا پڑ رہی ہے؟ اسی پر جلوس کے بعض شرکاء سے بات بھی ہوئی۔

ایک خاتون نے کہا کہ ’آپ کو پتہ ہے کہ عدلیہ کے خلاف آج کل کتنی بڑی سازش ہو رہی ہے۔‘

’مطلب! کونسی سازش ہورہی ہے؟‘ میں نے جھٹ سے پوچھ ڈالا۔

’سب سے پہلے تو گیلانی صاحب سے شروع ہوا تھا، اس کے بعد یہ جو میڈیا نے ان (چیف جسٹس) کے اوپر گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کی ہے جو ملک ریاض کے ساتھ پروگرام ہوا ہے اس کے اوپر تو سازش تو ہو رہی ہے۔‘

انہی خاتون سے میں نے یہ بھی پوچھ ڈالا کہ ان کا بنیادی مطالبہ ہے کیا؟

’یہ کہ سپریم کورٹ کو آزاد کریں، اس کے فیصلوں کو مانیں اور اس پر فضول کی تہمتیں مت لگائی جائیں۔‘

اسی جلوس میں شریک ایک صاحب کا حلیہ بتا رہا تھا کہ وہ پاکستان کے قبائلی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنا تعارف گلاب خان کے نام سے کرایا اور بتایا کہ وہ جنوبی وزیرستان کے رہنے والے ہیں۔

میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ عدلیہ کو ایک بار پھر کسی طرح کا کوئی خطرہ لاحق ہے؟ تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’نہیں کوئی خطرہ نہیں ہے انشاء اللہ، خطرہ مطرہ کوئی نہیں ہے، انشاء اللہ، اللہ خیر کرے گا، اللہ بہتر کرے گا، اللہ ملک بنائے گا انشاء اللہ، اللہ ملک خراب نہیں کرے گا۔‘

تحریک انصاف نے ہی حزب اختلاف کی بعض دوسری جماعتوں کی طرح سپریم کورٹ میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی اہلیت کے متعلق قومی اسمبلی کی سپیکر کے فیصلے کو بھی چیلنج کر رکھا ہے۔ ایسے میں حکومت کی مخالفت اور سپریم کورٹ کی حمایت میں تحریک انصاف کی اس مہم کی ساکھ پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔

لاہور میں مقیم سینیئر قانون دان عابد حسن منٹو سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ’سیاسی جماعتوں کو ان ایشوز کے اوپر کوئی سیاسی کام نہیں کرنا چاہیے لیکن میں ساتھ ہی حکومت کی مذمت کرتا ہوں کہ جو ایک سیاسی حکومت ہے اور وہ عدلیہ سے جڑے ان معاملات کو سیاسی بنا رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کی طرح دوسری سیاسی جماعتوں سے بھی یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ معاملات کو سیاسی نہ بنائیں۔

اسی بارے میں